کتاب: محدث شمارہ 365 - صفحہ 114
شریک تھے۔نمازِ مغرب کے بعد والی نشست عرب وفد کے خطابات کے لئے مخصوص کی گئی۔آخرمیں جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ کے مدیر اور الجامعہ الاسلامیہ العالمیہ کے پریزیڈنٹ نے عربی میں متعلقہ موضوع پر بصیرت افروز خطابات کیے۔ان خطابات کی اُردو ترجمانی کے فرائض مدیر 'محدث' ڈاکٹر حافظ حسن مدنی نے ادا کیے۔
لاہور میں اسی شب وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی طرف سےان کی صوبائی کابینہ سمیت سعودی عرب سے تشریف لانے والے مہمانانِ گرامی کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام تھا جس سے قبل کچھ دیر خادم اعلیٰ پنجاب سے ڈاکٹر سلیمان عبد اللہ ابا الخیل، ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش، ڈاکٹر حافظ عبد الرحمٰن مدنی، ڈاکٹرعبدالعزیز ابراہیم الغدیر اور ڈاکٹر حافظ حسن مدنی کی پہلے خصوصی ملاقات طے تھی۔بعدازاں امام محمد بن سعود یونیورسٹی، اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد اور لاہور اسلامک یونیورسٹی کے مزید دودرجن عہدیداران کے ساتھ صوبائی کابینہ کی وسیع تر نشست ہوئی، جس میں صوبائی وزراے تعلیم وقانون وغیرہ کے علاوہ لاہور کی بعض اہم یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز بھی موجو د تھے۔مہمانانِ گرامی نے حاضرین کے سامنے جامعہ لاہور الاسلامیہ(LIU) پر اپنے حسنِ اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس جامعہ کو پاکستانی معاشرہ کے لئے ثمرہ عظیم قرار دیا، اُنہوں نے واضح کیا کہ یہ جامعہ اسلامی علوم کے ساتھ دیگر شعبہ ہائے حیات میں توازن واعتدال کے ساتھ تعلیم وتربیت کے فرائض انجام دے رہا ہے۔اُنہوں نے صوبائی کابینہ اور خادم اعلیٰ پنجاب سے جامعہ لاہور الاسلامیہ کی خصوصی سرپرستی کا مطالبہ کیا۔مہمان نوازی کے حسن انتظام اور خادم اعلیٰ پنجاب کی حکومتی خدمات کو سراہتے ہوئے اُنہوں نے اہل پاکستان کی بے حد محبت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ یہ محبت بھرے جذبات سعودی عوام و حکومت تک بھی پہنچائیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ آئندہ لاہور آمد پر وہ جامعہ لاہور الاسلامیہ کو اس سے بہت وسیع تر خدمات انجام دیتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں، جس کے لئے اُنہیں زعماے حکومت کا مخلصانہ تعاون درکا ر ہے۔تین اور چار فروری کی درمیانی رات دو بجے سعودی عرب کے اس اعلیٰ تعلیمی وفد نے لاہور کو خیر باد کہا اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ پر اُنہیں سفیر خادم الحرمین الشریفین اور دیگر سعودی و پاکستانی میزبانوں نے الوداع کیا۔