کتاب: محدث شمارہ 365 - صفحہ 113
اس کے ذمہ داران کو بھی خدمات کے اعتراف میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد کے پریزیڈنٹ ڈاکٹرالدریویش نے تعریفی شیلڈیں پیش کی۔تقریب کے بعدجامعہ کےدیگر کیمپسوں کے معائنہ کے لئے مہمانانِ گرامی تشریف لے گئے۔
یاد رہے کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد کے پریزیڈنٹ ڈاکٹر درویش، جامعہ لاہور الاسلامیہ کی سپریم کونسل کے معزز رکن بھی ہیں اور اس موقع پر جامعہ کی سپریم کونسل کے دیگرکئی حضرات بھی موجود تھے۔تقریب تقسیم اعزازات کے بعدایک بجے دوپہرمجلس الجامعہ(University Authority)کااجلاس تھا،جس میں معزز مہمان شریک ہوئے اور جامعہ کے چانسلر محمد میاں سومرو کی علالتِ طبع کے باعث، پرو چانسلر ڈاکٹر سلیمان عبد اللہ ابا الخیل نے بحیثیت چانسلر اجلاس کی صدارت نےکی۔اس حوالے سے غور کیا گیا کہ جامعہ ہذا کے متعدد قومی اور بین الاقوامی تعلیمی اداروں سے معاہدات ہوچکے ہیں،جو طلبہ وطالبات کو ہر شعبہ حیات میں وسیع تر تعلیم دے رہے ہیں،سو مشاورت کے بعدطے پایا کہ جامعہ لاہور الاسلامیہ اب جامعہ لاہور العالمیہ (Lahore International University) کے قیام کی طرف پیش قدمی کرے، اور لاہور شہر میں پھیلے ہوئے منتشر کیمپسوں کو ایک منظم'یونیورسٹی ' کی شکل دینے کے لئے اقدامات کی طرف بھی توجہ کی جائے۔ڈاکٹر ابا الخیل نے لاہور واسلام آباد میں قائم دونوں اسلامی جامعات کو، اپنے عہدہ ومنصب کی رو سے،ایک دوسرے سے تعلیم وتحقیق کے میدانوں میں بھرپور تعاون کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح دنیا بھر میں ہم جامعات کی سرپرستی کرتے ہیں، ویسا ہی مثالی تعاون ہم لاہور انٹرنیشنل یونیورسٹی کو بھی میسر کریں گے۔عربی وپاکستانی مشترکہ روایات کے عکاس پرتکلف ظہرانے پر مجلس الجامعہ کی یہ میٹنگ ختم ہوئی۔
اسی روز شام لاہور کی مرکزی شاہراہ خیابانِ جناح (لنک رائیونڈ روڈ) پر واقع جامعہ کے کلیہ الشریعہ والدراسات الاسلامیہ کے کیمپس میں بعد نمازِ عصر'تعلیمی ثنویت اور عالم اسلام' کے موضوع پر ایک سیمینار کا انتظام کیا گیا تھا، جس میں جامعہ ہذا سے منسلک ومتعاون تعلیمی اداروں کے منتظمین اور ملک بھر سے تشریف لانے والے ماہرین تعلیم، یونیورسٹیوں کے پروفیسرز حضرات، شعبہ تعلیم سے متعلق بعض سرکاری عہدیداران اور مدارسِ دینیہ کے ذمّہ داران