کتاب: محدث شمارہ 364 - صفحہ 88
انتشار وافتراق سے بچنے کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی سے بچنے کا حکم دیا۔جو شخص لڑائی سے بچتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعریف اور حوصلہ افزائی فرمائی۔ ۱۔ابوداؤد شریف میں في كراهية المراء یعنی لڑائی، جھگڑے کی ناپسندیدگی کے عنوان کے تحت یہ حدیث بیان کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی عامل کو کسی جگہ تعینات فرماتے تو اسے ہدایت کرتے کہ ((بشّروا ولا تنفروا، يسّروا ولا تعسّروا)) [1]''خوشخبری دینا، نفرت پیدا نہ کرنا۔آسانیاں پیدا کرنا، مشکلات اور دقتیں پیدا نہ کرنا۔'' اس حدیث کو اس عنوان کے تحت بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایسی فضا پیدا کرنا جس میں لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑا نہ ہو،لوگ آپس میں ایک دوسرے کےلیے سہولتیں پیدا کرنے والے ہوں، جھگڑالو نہ ہوں، مسلمان ولی الامر کی ذمہ داری ہے۔ ۲۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی سے جھگڑا نہیں کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ بَاطِلٌ بُنِيَ لَهُ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ وَمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِهَا وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا)) [2] ''جس نے باطل چیز (جس پر اس کا حق نہیں تھا) کے لیے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا،اللّٰہ اس کے لیے جنّت کے کنارے پر محل تیار کرے گا اورجس نے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑے سے اجتناب کیا تو اللّٰہ جنّت کے وسط میں اس کے لیے محل تیار کرے گا اور جس نے (نہ صرف جھگڑا کرنے سے اجتناب کیا بلکہ) حسن خلق کا مظاہرہ کیا تو اس کے لیے جنت کے اعلیٰ درجے میں محل تیار کردیا جائےگا۔'' ۳۔سنن ابوداؤد میں روایت ہے کہ حضرت سائب کہتے ہیں: '' میں رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔لوگ میرا ذکر اور تعریف کرنے [1] صحيح مسلم: ۴۵۲۵ [2] جامع ترمذی: ۱۹۹۳