کتاب: محدث شمارہ 364 - صفحہ 82
مِنهُ وَتَنشَقُّ الأَر‌ضُ وَتَخِرُّ‌ الجِبالُ هَدًّا () أَن دَعَوا لِلرَّ‌حمٰنِ وَلَدًا ﴾[1] ''اور اُنہوں نے کہا کہ رحمٰن نے کوئی اولاد بنالی ہے، بلاشبہ تم ایک بہت بھاری بات (گناہ) تک آپہنچے ہو۔قریب ہے کہ اس بات سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گِر پڑیں کہ انہوں نے رحمٰن کے لیے کسی بیٹے کا دعویٰ کیا۔'' لہٰذا مسیحی حضرات کو مبارک باد دینا یا اس ضمن میں کسی بھی تقریب میں شرکت کرنا اسلامی نظریے کے مطابق درست نہیں، لیکن ہمارے کچھ نام نہاد علماے کرام اور آج کا ماڈریٹ مسلمان خواہ مخواہ اغیار کی تہذیب و تمدن سے مرعوب نظر آتا ہے اور بے علمی و جہالت اور نام نہاد روشن خیالی کے سبب نہ صرف مبارک باد اور خوشی کا اظہار کرتاہے،بلکہ اس موقع پر برپا کی جانے والی شراب و شباب کی محافل میں شریک ہو کر اظہارِ یکجہتی کا عملی نمونہ بھی پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسلام قبول کرنے سے قبل میری زندگی میں ایک کرسمس ایسا بھی آیا جس کو میں نے نیکی کا کام سمجھ کر خوب دھوم دھام سے منایا جس میں ۸۰فیصدمیرے ایسے دوستوں نے شرکت کی جو مسلمان تھے اور صرف شرکت ہی نہیں کی بلکہ ثواب سمجھ کر کرسمس پارٹی کے اَخراجات میں میری معاونت بھی کی، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اب جبکہ میں مسلمان ہو چکا ہوں اور گھر میں یا دیگر مقامات پر درسِ قرآن کی مجالس میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں تو وہی مسلمان لوگ جو رات ۳بجے تک میرے ساتھ کرسمس مناتے تھے، عذر تراشتے ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ میں جس مادر پدر آزاد تہذیب کو ٹھوکر مار کر آیا تھا، آج کے کچھ مادہ پرست، حواس باختہ سیکولر مسلمان اُسی تہذیب پر رال ٹپکا رہے ہیں۔جس بے مثال فلسفۂ توحید، لاجواب نظریۂ حیات اور آخرت کی لازوال کامیابی مجھے اور میرے جیسے کروڑوں لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لائی، وہیں اس دین کی تعلیمات سے بے بہرہ، اپنے اسلاف سے کٹے ہوئے، بے یقینی اور نااُمیدی کا طوق اپنے گلے میں ڈالے ہوئے کچھ مسلمان اُس دینِ الٰہی سے نظریں چرا [1] سورةمريم: ٩١