کتاب: محدث شمارہ 364 - صفحہ 49
''جوایمان کامنکروکافر ہے، اس کے اعمال ضائع اور برباد ہیں۔''[1] اسی طرح ابولہب نے اللّٰہ کی وحی کوناپسندکیااوریہ جرم بھی اعمال کو برباد کردیتاہے،اللّٰہ تعالیٰ کاارشاد ہے :''یہ اس لیے کہ وہ اللّٰہ کی نازل کردہ چیزوں کوناپسند کرتے ہیں،پس اللّٰہ نے ان کے اعمال ضائع وبرباد کردیے۔''[2] اسی طرح ابولہب نے اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کی ہے اوریہ جرم بھی اعمال کو برباد کردیتاہے، اللّٰہ تعالیٰ کاارشاد ہے : ''جن لوگوں نے کفر کیا،اللّٰہ کی راہ سے لوگوں کوروکااوررسول کی مخالفت کی اس کے بعد کہ ان کے لیے ہدایت ظاہر ہوچکی۔یہ ہرگز ہرگز اللّٰہ کاکچھ نہیں بگاڑسکیں گے اوراللّٰہ ایسے لوگو ں کے اعمال برباد کردے گا۔'' [3] اسی طرح ابولہب نے اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز بلندکی ہے اوریہ جرم بھی اعمال کو برباد کردیتاہے،اللّٰہ تعالیٰ کاارشاد ہے : ''اے ایما ن والو!اپنی آوازیں نبی کی آوازسے اوپرنہ کرواور نہ ان سے اونچی آوازسے بات کرو،جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو،کہیں (ایسانہ ہوکہ )تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔'' [4] غور کیجیے کہ مذکورہ جرائم میں سے جب صرف کسی ایک کے ارتکاب سے سار ے اعمال برباد ہو جاتے ہیں توابولہب جیساملعون شخص تو ان سارے جرائم کامرتکب ہے،ایسے بھیانک مجرم کی تو پہاڑ و سمندر جیسی نیکیاں بھی برباد ہوجائیں گی، چہ جائے کہ ایک پل کی اظہارِخوشی اسے کوئی فائدہ پہنچاسکے ! معلوم ہواکہ شریعت کی روسے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ابولہب کواس کے کسی بھی عمل کاکوئی فائدہ پہنچ سکے، لہٰذا مذکورہ روایت صحیح ہوہی نہیں سکتی۔ (۴) چوتھی وجہ یہ ہے کہ یہ روایت تاریخی حقیقت کے بھی خلاف ہے،کیونکہ اس میں یہ [1] سورۃ المائدہ: ۵ [2] سورۃ محمد:۹ [3] سورۃ محمد: ۳۲ [4] سورۃ الحجرات: ۲