کتاب: محدث شمارہ 361 - صفحہ 35
لأن ذلك قد وقع من بعض[1] (ج) علامہ ابوالعباس احمدبن محمد قسطلانی فرماتے ہیں: أی ما أخاف على جمیعکم الاشراك بل على مجموعکم لأن ذلك قد وقع من البعض[2] (د) حافظ ابن حجر عسقلانی رقم طراز ہیں: "قوله ((ما أخاف علیکم أن تشرکوا)) أی على مجموعکم لأن ذلك قد وقع البعض أعاذنا اللّٰه تعالىٰ[3] (ھ) ان تمام عبارات کا ترجمہ ایک جیسا ہی ہے جو کہ مولانا غلام رسول سعیدی صاحب بریلوی کی درج ذيل عبارت میں آجاتا ہے: ''آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مجھے یہ خوف نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہوجاؤ گے، اس کا معنیٰ یہ ہے کہ مجھے یہ خوف نہیں ہے کہ تم مجموعی طور پر مشرک ہوجاؤ گے،اگرچہ بعض مسلمان مشرک ہوگئے،العیاذ باللّٰه [4] حدیثِ عمر وبن عوف رضی اللہ عنہ کے تناظر میں محترم قارئین! عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی اس مذکورہ بالا حدیث کو عمرو بن عوف انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث کے تناظر میں بھی دیکھیں اور ان دونوں حدیثوں کا اُسلوب بھی بالکل ایک جیسا ہی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَوَ اللّٰهِ لَا الْفَقْرَ أَخْشٰى عَلَيْكُمْ وَلَكِنْ أَخَشٰى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمْ الدُّنْيَا)) [5] ''اللہ کی قسم! مجھے تم پر یہ خطرہ نہیں ہے کہ تم فقیر بن جاؤ گے لیکن مجھے تم پر یہ خطرہ [1] مرقاۃ :11/104 ، دوسرانسخہ:11/237 [2] ارشاد الساری:2/440، طبع 1988ء بیروت [3] فتح الباری:2/271 [4] نعمۃ الباری:3/514، طبع اوّل [5] صحیح بخاری:3158؛ صحیح مسلم:2961