کتاب: محدث شمارہ 361 - صفحہ 28
فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ((اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا يُعْبَدُ)) [1] ''اے اللہ میری قبر کو بت نہ بنا کہ لوگ اس کو پوجنے لگیں۔ پھر فرمایا: اس قوم پر خدا کا غصہ نازل ہوا جس نے اپنے انبیا کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔''[2] اور غلام رسول سعیدی بریلوی اس كا ترجمہ یوں کرتے ہیں: ''اور فرمایا: ''اے اللہ ! میری قبر کو بت نہ بنا جس کی عبادت کی جائے۔''[3] علامہ طیبی اور ان سے ملا علی قاری حنفی اسی حدیث کے تحت راقم ہیں: أی لاتجعل قبري مثل الوثن المعبود في تعظیم الناس وعودهم للزیارة إلیه بعد بدئهم واستقبالهم نحوه في السجود کما نسمع ونشاهد الآن في بعض المزارات والمشاهد[4] ''اے اللہ ! میری قبر کو بت کی طرح نہ بنا دینا کہ جس طرح لوگ بتوں کی تعظیم کرتے ، بار بار اُن کی زیارت کرتے اور سجدوں میں ان کی طرف توجہ کرتے ہیں، جیسا کہ بعض مزارات و مشاہد کے بارے میں ہم سنتے اور دیکھتے ہیں۔ 4. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لاتتخذوا قبري وثنًا)) [5] ''(میری اُمّت کے لوگو!) میری قبر کو بت نہ بنانا۔'' یاد رہے کہ احمد رضا خان بریلوی الزواجر عن اقتراف الکبائر(جلد اول،كتاب الصلوة) کے حوالے سے لکھتے ہیں: قوله صلی اللہ علیہ وسلم : ((لا تتخذو اقبري و ثنا یعبد بعدي)) أي لا تعظموه تعظیم غیرکم لأوثانهم بالسجود له أو نحوه فإن ذلك کبیرة بل [1] التمہید ازابن عبدالبر:2/326 ،عن عطاء ابن يسار عن ابی سعيد الخدری موصولا وقال المہدی: اسنادہ حسن، وفی الموطاللامام مالك،باب جامع الصلاة،السفر،رقم الحديث570عن عطاء مرسلا [2] مشکوٰۃ شریف مترجم :1/163، از شیخ عبدالحق حنفی دہلوی، طبع محمد سعید اینڈ سنز مطبع سعیدی ، کراچی [3] نعمۃ الباری:2/190 [4] شرح الطیبی:3/960؛ مرقاۃ:2/425، دوسرا نسخہ:2/228 [5] التمہید لابن عبد البر: 2/327، وقال المہدی: حديث صحيح