کتاب: محدث شمارہ 354 - صفحہ 112
مترجم بھی ہیں۔ 6. مولانا عبد الجبار مدنی حفظہ اللہ ،آپ مدینہ یونیورسٹی کے فاضل اور جامعہ قدس اہل حدیث چوک دالگراں میں مدرّس ہیں ۔بڑی مرنج مرنجان طبیعت کے مالک اور نہایت سادگی پسند ہیں۔ 7. حضرت مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی حفظہ اللہ ، امیر جماعت اہل حدیث پاکستان:آپ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں بڑی دیر سے غصہ آتا اور بڑی جلدی کا فور ہو جاتا ہے اور دونوں بھائیوں کی محنت سے جامعہ قدس چوک دالگراں دوبارہ جوان ہو گیا ہے۔ 8. مولانا عنایت اللہ امین ڈاہروی حفظہ اللہ آپ دارالحدیث راجووال میں مدرّس ہیں اور’ رہر کھالی‘ میں خطیب ہیں۔ علاوہ ازیں ہزراوں طلبہ اور سینکڑوں علماے دین جو پاکستان ، افغانستان، بلتستان، عرب امارات ، سعودی عرب، بنگلہ دیش اور ہندوستان میں دعوتِ دین کے کام میں مصروف ہیں، آپ کے روحانی فرزند اور آپ کا صدقہ جاریہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائےاور اُن کی تالیفات: ’چشمہ فیض‘ ،’ احکام ومسائل‘ اور ’ارشاد القاری‘ وغیرہ کتب کو نافع خلائق بنائے۔ ہمارے ممدوح مولانا عبد المنان نورپوری کی زندگی کی طرف اُن کا آخرت کا سفر بھی عظیم الشان تھا۔ جناح پارک متصل جامعہ محمدیہ،گوجرانوالہ میں ہرسو متشرع اور باعمل مسلمان کا جم غفیر نظر آتا تھا۔ اطراف واکناف سے جمع ہونے والے توحید کے پروانوں کا بہت بڑا اجتماع تھا جو آپ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے موجود تھا۔ مولانا مرحوم کی عظیم الشان محنت کے اثرات اُن کے پیروکاروں کی اُن سے والہانہ محبت میں جلوہ افروز ہورہے تھے۔جناح پارک کے جوانب میں موجود گھروں کی بالکونیاں اہل علاقہ اور خواتین سے بھری پڑی تھیں اور سب حیرانی سے دیکھ رہے تھے کہ کیسا عالم جلیل آج دنیا سے رخصت ہوگیا۔ ان کا جنازہ دین کے لئے اپنی زندگی بِتانے والوں کے لئے سکون واطمینان کا باعث اور دنیا پرستوں کے لئے نقارہ خدا تھا کہ جو لوگ اللہ کے لئے اپنی ہرصلاحیت صرف کردیتے ہیں، دنیا کس طرح اُن سے بے لوث محبت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرمائے، اُن کو اعلیٰ علیین میں جگہ دے اور دین کے دیگر خدام کو بھی ان جیسا علم وعمل نصیب فرمائے۔ آمین یا ربّ العٰلمین !