کتاب: محدث شمارہ 346 - صفحہ 64
اسلام کے آنگن اور اس کے گھر جزیرۂ عرب میں جو مسلمانوں کے سب سے اہم قدرتی سرمایہ کا حامل ہے، دنیا کے 75 فیصد پٹرول کا ذخیرہ پایا جاتا ہے ۔ وہاں ایک کروڑ 60 لاکھ بیرل پٹرول یومیہ نکالا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں جو ذخائر جنوبی عراق میں پائے جاتے ہیں ، وہ پانچ ملین بیرل پٹرول ایک دن میں نکالنےکی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ واضح رہے کہ گیس کا استخراج اس کے علاوہ ہے۔ نیز پٹرول و گیس کے محفوظ ذخائر جو ایران، الجزائر، شام اور سوڈان میں پائے جاتے ہیں ، وہ بھی مشہور و معروف ہیں ۔ ایسے ہی پٹرول کا دوسرا بڑاذخیرہ بحرقزوین کے گرد وپیش میں پایا جاتا ہے۔سبحان اللہ! کیسا تعجب خیز اتفاق ہے کہ خطۂ ارض کی امیر ترین قوم آج دنیا کی فقیر ترین قوم بن چکی ہے۔ ہمارے دشمن ہمارے ہی مال کے ذریعے ہمارے خلاف لڑ رہے ہیں اس سےبھی تعجب خیز بات مغربی اقوام،جن کا سرغنہ امریکہ ہے، کی وہ تاریخ ساز چوریاں ہیں ، جن کا تجربہ وہ مختلف اسلامی ممالک میں کرچکے ہیں ۔ یہ ہمارے وہی صلیبی اور صہیونی دشمن ہیں جنہوں نے آج ہم پر چہار اطراف سے چڑھائی کررکھی ہے۔ افسوس! یہ لوگ ہمارے ہی مال سے ہمیں ہلاک کرتے اور بہت سہولت و بلا تکلیف ہمارا مال لے جاتے ہیں ،پھر اسے ہمیں ہی نیست و نابود کرنے میں استعمال کرتے ہیں ۔ یہ دشمن اپنے جنگی جہازوں ، ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کو چلانے کے لیے ہم ہی سے پٹرول لیتے ہیں ، پھر اس کے ذریعے ہمارے ہی بچوں اور عورتوں کو قتل کرتے ہیں ۔ آج مسلمانوں کے اس پٹرول سے مسلمانوں کی بجائے خود اسلام کے صہیونی دشمنوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور وہ اسے اپنی تعیّشات میں اور ہمیں برباد کرنے میں کھپا رہے ہیں ۔ ہمارا سرمایہ تو پہلے سرچشموں ہی سےچوری ہوجاتاہے! دراصل ہمارا قیمتی سرمایہ ہمارے مصادر ہی سے چوری ہوجاتا ہے۔ یہ اس طرح کہ ہمارے صلیبی دشمن مختلف کمپنیوں کی صورت میں تیل اور پٹرول کے نکالنے، اس کی خریدوفروخت، تجارت اور تمام چھوٹے بڑے مراحل کی خود نگرانی کرتے ہیں او رپھر اس کی آمدنی ملکی بینکوں کا چکر کاٹتے ہوئے انہی کے بینک کھاتوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ ذیل