کتاب: محدث شمارہ 346 - صفحہ 62
ملت ِاسلامیہ حافظ صلاح الدین اُمت ِمسلمہ کے خزانے اور ظالم حکمرانوں کی عیّاشیاں اُمت ِمسلمہ میں آج ہر طرف بے چینی اور انتشار ہے، عرب مسلمان انقلاب کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں ۔ ہمارے حکمرانوں کے کیسے رویّوں سے مسلم عوام تنگ ہیں ، اس کی ایک جھلک ذیل کے مضمون میں ملاحظہ فرمائیے۔ ح م آج اُمت ِمسلمہ نہ صرف اپنے ربّ سے دوری اور دین سے محرومی کا شکار ہے بلکہ دنیا بھی اس کے ہاتھوں سے جاتی رہی ہے۔ آج مسلمانوں کی غالب اکثریت جوکروڑوں تک جاپہنچتی ہے ، تنگ و ترش زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ خستہ حالی ان کامقدر بنی ہوئی ہے اور ان کی معیشت تباہی کا شکار ہے۔ قریب ہے کہ ان کی حالت اس فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مواقع ہوجائے جسے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایات کرتے ہیں کہ ((إن أشقٰی الأشقیاء من اجتمع عليه فقر الدنیا و عذاب الأخرة)) ’’بلا شبہ بدبخت و بدنصیب ترین آدمی ہے وہ جس پر فقر دنیا اور عذابِ آخرت جمع ہوجائیں ۔‘‘ [رواہ ابن ماجہ و صححہ الحاکم،مجمع الزوائد 10/267] آج مسلمانوں کی اکثریت اسی حالت کو جاپہنچی ہے،اِلا من رحم اللہ! آئندہ سطور میں ہم ان اہم وجوہات و اسباب کا جائزہ لیں گے جن کے سبب مسلمان آج اپنی دنیابھی کھو بیٹھے ہیں ۔ ملت ِاسلامیہ معدنی و زمینی وسائل سے مالا مال ہے! اُمت مسلمہ کے تمام علاقے طرح طرح کے قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں جن میں سرفہرست پٹرول ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ آج اگر دنیا میں بڑے پیمانے پر پٹرول کا ذخیرہ کہیں پایا جاتا ہے تو وہ خلیج عرب ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق زمین میں پٹرول کا پہلا ڈیم بھی یہی ہے۔ اس کا علاوہ بحر قزوین سے قوقاز تک پھیلے ہوئےعلاقے اور عراق و شام میں بھی پٹرول وافر مقدار میں موجود ہے۔ وسطی ایشیا کے یہ ذخائر عالمی سطح پر نہایت اہمیت کے