کتاب: محدث شمارہ 343 - صفحہ 14
جرم کا وقوع ثابت کرنا ہوگا۔ گویا یہ جرم ریاست کے خلاف نہیں بلکہ مسلمان کے خلاف ہے، جس کی تلافی کے لئے اسے شکایت کرکے حکومت کی مدد حاصل کرنا ہوگی۔اس ترمیم کا نتیجہ یہ نکلا کہ شکایت کنندہ مسلمان کووقوعہ کے اندراج کے تمام اخراجات نہ صرف خود ہی برداشت کرنا ہوں گے، بلکہ گواہوں کے ذریعے وقوعہ کو ثابت بھی کرنا ہوگا۔ اس ترمیم کا مقصد واضح طورپر اس جرم کی سزا کے نفاذ ميں رکاوٹیں کھڑی کرنا تھا۔ ٭ نواز شریف حکومت اور قانونِ توہین رسالت: بینظیر کے دور ِحکومت1996ء میں سینٹ کےقائد ِحزبِ اختلاف راجہ ظفر الحق نے 7 مارچ 1996ء کو امریکی حکومت کے مطالبے پر اس قانون کے طریقہ کار میں اس تبدیلی کو انتہائی مایوس کن قرار دیا۔ لیکن 1998ء میں جب نواز شریف حکومت کا دوسرا دور تھا، تو اس وقت وفاقی وزیر مذہبی واقلیتی اُمو رنے 7مئی 1998ء کو یہ بیان دیا کہ حکومت اس قانون میں تبدیلی کے بجائے طریقہ کار میں تبدیلی پر غورکررہی ہے۔اور وہ یہ کہ ’’ توہین رسالت کی سماعت عام عدالت کی بجائے سپیشل کورٹ میں کی جائے۔ علاوہ ازیں ایسے کیس چلنے سے قبل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس جائیں تاکہ وہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ یہ کیس چلنا بھی چاہئے یا نہیں ؟‘‘ [1] افسوسنا ک امریہ ہے کہ یہ بیان دینے والی مبارک شخصیت وہی تھی جنہوں نے بینظیر دور میں اس قانون میں تبدیلی کی بھرپور مخالفت کی تھی لیکن اپنے دورِ حکومت میں وہ خود اس قانون میں تبدیلی پر کمر بستہ ہوگئےحتیٰ کہ نواز حکومت کے وفاقی وزیر قانون خالد انور نے تو چند دنوں بعد یہ بیان بھی دے دیا کہ ’’حکومت قانونِ توہین رسالت میں بھی ترمیم کرے گی۔‘‘[2] اس پس منظر کے ساتھ آخر کار وزیر اعظم نواز شریف نے جون 1998ء کو اس قانون کے طریقہ کار میں تبدیلی کی منظوری دے دی۔ ا س موقع پر روزنامہ ’نوائے وقت‘ میں شائع ہونے والی خبر کا متن یہ تھا:
[1] روزنامہ’خبریں‘ لاہور : 9 مئی 1998ء [2] روزنامہ ’خبریں‘ لاہور: 24 مئی 1998ء