کتاب: محدث شمارہ 339 - صفحہ 79
ایک فٹ اونچی پتھر وں کی گول منڈیر پائی جس کی شمالی سمت میں تقریباً تین فٹ اونچی لوحِ مزار جیسی دیوار ہے۔دیوار اور اس منڈیر کے درمیان خار دار تار حائل ہے، اسے کسی طور بھی قبر نہیں کہا جاسکتا ہے۔ 20.www.jesus-kashmir-tomb.com 21.www.jesus-kashmir-tomb.com 22. مقدس توما ازوالڈ ،ایس این ، ص ۱۶۷ ،عباسی لیتھو آرٹ پریس ، کراچی۱۹۷۷ء 23.اس روایت کا دارومدار یونانی نژاد مسیحی مبشر پینٹ ینس(۱۲۰ئ)کی ہندوستان یاترا پر موقوف ہے جس کے مطابق وہ جن لوگوں کے پاس آیا تھا، وہ برتلمائی رسول کے پیروکار تھے۔اس نے ان لوگوں سے مذکورہ نسخہ حاصل کیا اوراپنے ساتھ واپس (اسکندریہ)لے گیا۔(صلیب کے ہراول ازبرکت اللہ پادری، دلی پرنٹنگ ورکس،دہلی۱۹۴۹ئ،طبع اوّل:ص۱۸)لیکن اسکے برعکس مولانا رحمت اللہ کیرانوی (م۱۸۹۱ئ) رقم طراز ہیں :’’یوسی بیس کہتا ہے کہ پین ٹی نس جب انڈیا (حبش)میں آیا اوراس نے وہاں ایک نسخہ عبری متی کے انجیل کا پایا جو وہاں کے لوگوں کو برتلماحواری سے پہنچا تھا اور اس وقت سے ان کے پاس محفوظ تھااور جیروم پین ٹی نس اس نسخہ کو وہاں سے اسکندریہ میں لایا۔‘‘ازال الشکوک ازمولانا رحمت اللہ کیرانوی ، انگپانایک اسٹریٹ نمبر ۱۵۶، مدراس ۱۲۸۸ھ ، ج۲ /، ص۱۲۹) 24. صلیب کے ہراول ازبرکت اللہ ، ص۲۲ 25.ابن خلدون ، تاریخ خلدون،(القاہرہ ۱۳۲۹ھ)، ج۲/ ص۵۰؛ پال، سلطان محمدپادری، عربستان میں مسیحیت (پنجاب ریلجیس بک سوسائٹی،لاہور ، بار اوّل۱۹۴۵ئ) ص ۱۴ 26.توام یعنی جڑواں کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی ایک جڑواں بہن تھی جس کا نام لوسیاہ تھا۔ [ توما ہند و پاک میں ازیوسف مسیح یاد، ص۲۰ ،پاکستان کرسچین رائٹرز گلڈز، پشاور،۱۹۹۶]کچھ علما کا خیال ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ کے بھائی یہودا تھے جن کا ذکرانجیل میں ہے ۔ (مرقس ۶:۳، متی :۱۲:۵۵) 27.انجیل توما ، اعمال توما ، انجیل طفولیت ِمسیح ، مشاہداتِ توما ، کتاب خانہ بدوشی توما ( ازال الشکوک:۲ /۲۳۰) 28.بشپ ولیم جی ینگ اپنی کتاب ’رسولوں کے نقش قدم پر‘میں رقم طراز ہیں :’’یہ ایک بدعتی اور جعلی قصہ ہے جو کہ اڈیسہ میں ۱۸۰اور۲۳۰ء کے درمیان تحریر ہوا ۔ اس کا مصنف ایک ناستک معلوم ہوتا ہے ۔اس میں بہت سی لغو اوربے بنیاد کہانیاں ہیں جو موجودہ شکل میں قابل اعتبار نہیں ۔‘‘[رسولوں کے نقش قدم پر ، ص۳۹،مسیحی اشاعت خانہ ، لاہور۱۹۹۸ء بار ششم]پادری برکت اللہ نے اس کے بارے تفصیلی بحث کی ہے اور بہت سے لوگوں کی آرا و نقد و تبصرہ نقل کیا ہے۔ ان کے بقول:’’توما کے اعمال‘ کے مصنف نے چند تاریخی ناموں اور معتبر روایتوں کو لے کر ایک فسانہ گھڑا ہے جس کے ذریعے وہ ایسے ناستک اور بدعتی خیالات کا پرچار کرنا چاہتا ہے … اس کتاب کے مصنف کو نہ تاریخ سے دلچسپی ہے اور نہ جغرافیہ سے دل بستگی، بس اس کو ایک ہی دھن ہے کہ وہ ناستک خیالات کی مقدس توما کی زبان سے تبلیغ کروائے… وہ