کتاب: محدث شمارہ 337 - صفحہ 3
2.اِس سلسلے کی دوسری دستاویز ۱۹۵۱ء میں ملک کے ۳۱/ معروف اور جملہ مکاتبِ فکرکے نمائندہ علما کے تجویز کردہ ۲۲ نکات ہیں ۔ ان نکات کو ’اسلامی مملکت کے رہنما اُصول‘ کی حیثیت سے تشکیل دیا گیا تھا۔ شمارہ ہذا میں ۲۲نکات کا پس منظر، متن اور دستخط کرنے والے علما کے نام اورتعارف شائع کئے جارہے ہیں ۔ اس دستاویز کو پاکستان کے مرکزی اور نمائندہ علما کے متفقہ مطالبہ کی بنا پر ہمیشہ سے ایک معتبر اور باوقار حیثیت حاصل رہی ہے اور اس کو ’نفاذِ شریعت کے رہنما خطوط‘ باور کیا جاتا ہے۔ 3.اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے شریعہ اپلیٹ بنچ کے جسٹس خلیل الرحمن خاں جو اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں ، کی تازہ ترین تحقیق بھی اس شمارے کی زینت ہے جس میں علما کے ان ۲۲ نکات کے سلسلے میں یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ دستورِ پاکستان میں یہ نکات کس کس مقام پر داخل کئے جا چکے ہیں ؟ جسٹس صاحب کے زیر نظر جائزے سے اندازہ ہوتا ہے کہ علما کے یہ بائیس نکات اکثر وبیشتر دستورِ پاکستان کا حصہ بن چکے ہیں ۔ اُن کی رائے میں اسلام کے حوالے سے فی الوقت اصل ضرورت دستور ی ترمیمات سے بڑھ کر مخلصانہ عزم اورمؤمنانہ فراست کی ہے تاکہ دستور میں شامل ان ۲۲ نکات کا ثمرہ پاکستانی عوام تک پہنچ سکے اور حکومت حقیقتاً دستور میں بیان کردہ ان نکات کی تعمیل کو اپنا فرضِ منصبی سمجھ لے۔ غرض ۳۱ علما کے بائیس نکات اور ان کا یہ تفصیلی جائزہ بھی زیر نظر شمارہ میں زیب ِ اشاعت ہے۔ 4.اِس سلسلے کی تیسری اہم دستاویز۱۹۸۶ء میں ’جملہ مکاتب ِفکر کا تیار کردہ متفقہ شریعت بل‘ ہے۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم نے عوامی دباؤ کے تحت ۱۹۸۵ء میں جب مارشل لاء اُٹھا کر جمہوریت کو دوبارہ جاری وساری کیا تو ضیا حکومت کے نعرہ نفاذِ اسلام کو عملی شکل دینے کے لئے عوامی تحریک بھی زور پکڑگئی۔ سینٹ میں مولانا سمیع الحق اور قاضی عبد اللطیف نے شریعت بل کا ایک مسودہ پیش کیاجس کو منظور کرنے سے پیشتر آئین میں اس مقصد سے نویں ترمیم کو بھی پیش کیا گیاتاکہ شریعت بل منظور ہوجانے کے ساتھ ساتھ آئین میں مطلوبہ ترامیم کرلی جائیں ،کیونکہ عام قانون کی حیثیت سے منظورہونے والے کسی بل سے دستوری ڈھانچے میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوسکتیـ۔ اس موقع پر جب اس شریعت بل