کتاب: محدث شمارہ 334 - صفحہ 71
2. شروع کے حملوں یا اوّل جیش میں یزید بن معاویہ شامل نہ تھے کیونکہ یہ واقعات ۴۴ھ، ۴۵ھ اور ۴۶ھ کے دوران پیش آئے تھے اور یہ حملے یزید بن معاویہ کے ۴۹ھ کے حملے سے پہلے ہوئے تھے کیونکہ سیدنا عبدالرحمن بن خالد بن الولید ۴۶ھ میں شہید ہوگئے تھے اور اس غزوہ میں بھی سیدنا اَبوایوب انصاری، سیدنا عبدالرحمن بن خالد کے ساتھ شریک تھے جیسا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی بے رخی کے باوجود شریک ہوئے تھے اور پھر وہ آخری معرکہ میں یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی شریک ہوئے اور پھر اسی حملہ کے دوران بیمارہوکر اُنہوں نے وفات پائی تھی، جس کی تفصیل اوپربیان ہوچکی ہے۔ 5.قسطنطنیہ پر پانچواں حملہ (زیر امارت: سفیان بن عوف) حافظ زبیر علی زئی لکھتے ہیں : ’’یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے آخری حملہ سے پہلے قسطنطنیہ پر سابقہ حملوں کے علاوہ ایک اور حملہ بھی ہوا ہے۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں : واستعمل معاوية سفیانَ بن عوف علی الصوائف وکان یعظّمہ ’’اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے سفیان بن عوف کوقسطنطنیہ پر صیفی(موسم گرماکے) حملوں میں امیر بنایا اور آپ ان کی تعظیم کرتے تھے۔‘‘[الإصابة: ج۲/ص۵۶] محمد خضیری کی محاضرات الأمم الإسلامية میں ہے کہ ’’وفي ۴۸ھـ جھَّز معاوية جیشًا عظیمًا الفتح قسطنطينية وکان علی الجیش سفیان بن عوف‘‘ [ج۲/ ص ۱۱۴] ’’اور ۴۸ھ میں معاویہ رضی اللہ عنہ نے قسطنطنیہ کی فتح کے لیے ایک عظیم لشکربھیجا جس کے امیر سیدنا سفیان بن عوف تھے۔‘‘ 6.قسطنطنیہ پر آخری حملہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں قسطنطنیہ پر جو آخری حملہ ہوا تھا، اس لشکر کے سپہ سالار یزید بن معاویہ تھے اور اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس لشکر میں سیدنا اَبوایوب انصاری بھی شامل تھے جو اسی جہاد کے دوران وفات پاگئے تھے اور اُنہیں قسطنطنیہ کے دروازہ کے قریب دفن کیا