کتاب: محدث شمارہ 334 - صفحہ 46
’’سیدنا عباس رحمۃ اللہ علیہ نے حاجیوں کو پانی پلانے کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ کی راتیں مکہ میں گزارنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔‘‘ جب پانی پلانے والوں کو منیٰ کی راتیں مکہ میں گزارنے کی رخصت مل سکتی ہے تو منیٰ میں راتیں گزارنے کے لیے جگہ نہ پانے والوں کو بالاولیٰ رخصت ملنی چاہئے۔ دوسری دلیل بکریوں کے چرواہوں والی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں منیٰ کی راتیں منیٰ سے باہر اپنی بکریوں کے پاس گزارنے کی اجازت دے دی۔[مؤطا:۸۱۵، احمد ۲۳۸۲۶، ابوداؤد:۱۹۷۵، ترمذی:۹۵۵، ابن ماجہ:۳۰۳۷، نسائی:۳۰۶۹] منیٰ میں جگہ نہ پانے والا رخصت پانے کا ان چراہوں سے زیادہ حق دار ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ حاجیوں کو یہ فتویٰ دیتے تھے کہ اگر کسی حاجی کے پاس مکہ میں قیمتی سامان موجود ہے اور منیٰ میں رات گزارنے کی وجہ سے اسے اس کے ضائع ہوجانے کاخدشہ ہے تو وہ مکہ میں اپنے سامان کے پاس رات گزار سکتا ہے اور اسپر کوئی حرج نہیں ہے۔[التمہید: ۱۷/۲۶۳] اہل علم نے ہر اس شخص کو چرواہوں اور پانی پلانے والوں کے ساتھ ملحق کیاہے جس کو اپنے مال کے ضیاع کا خدشہ ہو، کسی اہم امر کے فوت ہوجانے کا خطرہ ہو، یا مریض کے مرض بڑھنے اور اس کو ضرر یا مشقت ِظاہرہ لاحق ہونے کا خدشہ ہو۔ جب ان تمام افراد کو مبیت ِ منیٰ سے رخصت ہے تو جو شخص منیٰ میں راتیں گزارنے کے لیے مناسب جگہ نہ پاسکے، وہ رخصت کا زیادہ حق دار ہے۔ اسی طرح وہ شخص جو طوافِ بیت اللہ کے لیے مکہ گیا پس اس کو شدید رَش نے گھیر لیا اور وہ منیٰ میں رات نہ گزار سکا۔ اب یہ جگہ نہ پانے والااور رش میں گھرا ہوا دونوں اشخاص خارجی امر کے سبب مبیت ِ منیٰ سے پیچھے رہ گئے ہیں اور یہ اس کے رفع کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔ لہٰذا ان دونوں پر کوئی شے لازم نہیں آتی۔ 7.قربانی کی آسانی قربانی کی آسانی یہ ہے کہ کثرت سے خون نہ بہایا جائے۔ بسا اوقات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اثر کی بنیادپر حج میں کوئی واجب رکن ترک کرنے پردم دینے کا فتویٰ صادر کردیا جاتاہے: من نَسِي من نسکہ شیئًا أو ترکہ فلیھرق دمًا [موطا :۹۴۰، بیہقی:۵/۳۰،۱۵۲] ’’جو شخص اپنے مناسک ِحج میں سے کوئی شے بھول جائے یاچھوڑ دے،چاہئے کہ خون بہائے۔‘‘ یہ اثر صحیح ہے لیکن ایک فتویٰ اور اجتہادِ صحابی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔جبکہ اکثر سلف