کتاب: محدث شمارہ 334 - صفحہ 37
وَلْیُوْفُوْا نُذُوْرَھُمْ وَلْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ﴾ [الحج:۲۹] ’’پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔‘‘ [شرح النووی علی مسلم:۸/۱۹۲] اللہ تعالیٰ نے ترتیب میں طواف کو آخر میں رکھا ہے۔ نواب صدیق حسن خان کو وہم ہوا ہے، فرماتے ہیں کہ طوافِ افاضہ، وقوفِ عرفہ سے پہلے ہوسکتا ہے اور اُنہوں نے صحیح بخاری کی ایک موہوم روایت پراعتماد کیا ہے جس کے الفاظ آپس میں ایک دوسرے کا ردّ کررہے ہیں اور حدیث کبھی مختصر ہوتی ہے، کبھی معنًی بیان کی جاتی ہے۔ [دیکھئے:الروضة الندية:۱/۳۶۱ اور التعلیقات الرضية للشیخ الألباني: ۲/۱۱۴،۱۱۶] تنگی دور کرنے کے پیش نظر معذورمرد، عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کا طوافِ افاضہ آدھی رات کے بعد مشروع ہوجاتا ہے،ان کو اجازت ہے کہ وہ آدھی رات کے بعد طواف کرلیں ۔ طوافِ افاضہ کو لیٹ کرنا بھی جائز ہے، حتیٰ کہ طوافِ افاضہ اور طوافِ وداع اکٹھا کرلینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے تاکہ مشقت نہ ہو۔طوافِ افاضہ کو ذوالحجہ کے آخر تک یا ایک ماہ تک لیٹ کیا جاسکتا ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ اگر کسی شخص نے بھول کر یاجہالت سے طوافِ افاضہ چھوڑ دیا اور اس نے طوافِ وداع کیاہو تو یہی ایک طواف اس آدمی کو دونوں طوافوں (افاضہ اور وداع) سے کافی ہوجائے گا۔ [شرح النووی علی مسلم:۸/۱۹۳] اسی طرح حائضہ عورت سے طوافِ وداع بھی ساقط ہوجاتا ہے اور یہ رخصت سنت سے ثابت ہے۔ [صحیح بخاری:۱۷۵۵،صحیح مسلم:۱۳۲۸] 3. طواف کے لیے طہارت کی شرط؟ جمہور اہل علم کے نزدیک طواف کے لیے طہارت شرط ہے۔ جب کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک طہارت شرط نہیں ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک روایت ثابت ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ بھی طہارت کی عدمِ شرطیت کے قائل ہیں اور اسی کے مطابق ہی شیخ محمد صالح عثیمین رحمۃ اللہ علیہ فتویٰ دیا کرتے تھے۔ [شرح النووی علیٰ مسلم:۸/۱۴۸، مجموع الفتاویٰ:۲۳/۱۷۱، الاختیارات للبعلی:ص ۱۰۵، حاشیہ ابن قیم علیٰ سنن ابی داؤد:۱/۶۶، الفروع:۳/۳۷۱، عمدۃ القاری:۱/۱۴۸، فتح الباری:۳/۵۰۵، الانصاف:۱/۲۲۲،الشرح الممتع : ۷/۳۰۰] طہارت کی عدمِ شرطیت سے سخت رش میں لوگوں پر تخفیف ہوجاتی ہے۔