کتاب: محدث شمارہ 328 - صفحہ 52
ہے۔
٭ درج بالا تمام رویوں میں عقلی اعتبار سے سب سے سخت رویہ محدثین کا ہے کہ وہ ضعیف حدیث کو احکام میں مطلق طور پر قبول نہیں کرتے۔ اگرچہ اس میں صدق و ثبوت کا امکان موجود ہوتا ہے۔ فضائل اعمال میں بھی محققین اصحاب الحدیث ’ضعیف حدیث‘ کو مطلق طورپر قبول نہیں کرتے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ محدثین کا طبقہ احادیث کا جس قدر والہ و شیدا ہے، اسی قدر اس کو نقد کی بھٹی میں زیادہ پرکھنے کا عادی ہے اور عموماً فقہا اس چیز کے حامل نہیں ۔
٭ ضعیف حدیث کے متعلق درج بالا مختلف مکاتب ِفکر کے باوجود ان میں سے کسی کا قول ایسا نہیں جو عقل و بصیرت کے صریح منافی ہو۔
حدیث کی تدوین کے مراحل کا عقلی جائزہ
٭ اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے اور تاریخی اعتبار سے ثابت ہے کہ صحیح حدیث ہر دور میں الگ تھلگ اور واضح رہی ہے۔ حتیٰ کہ یہ اس دور میں بھی واضح تھی جب حدیث کی مستقل تدوین نہیں ہوئی تھی۔ جیسا کہ ثقات و ائمہ کا ایک بڑا طبقہ ہر دور میں احادیث کا حافظ تھا اور ان کا علم، حفظ و اتقان دیگر رواۃ کے حفظ کا میزان تھا۔
٭ صحاح ستہ کی احادیث کے اِستقراء سے ثابت ہوتا ہے کہ اکثر احادیث یا تو پانچ واسطوں پر مشتمل ہوتی ہیں یا چھ واسطوں پر۔ اس حساب سے اگر ہم اندازہ لگائیں تو حدیث دورِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر صحاحِ ستہ کے مصنّفین تک چھ طبقوں میں منقسم ہوسکتی ہے ۔ یہ طبقے تقریب کے لئے ہیں ، نہ کہ تحقیق کے لئے۔
٭ پہلا طبقہ کبار صحابہ رضی اللہ عنہم اور صغار صحابہ رضی اللہ عنہم کا ہے۔ اہل سنت کااجماع ہے کہ تمام صحابہ عادل ہیں کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مکی اور مدنی دور کے اندر دین کی خاطر شجاعت، جاں نثاری ، ایثار اور قربانیوں کی عظیم داستانیں رقم کیں اور اللہ تعالیٰ نے موقع بہ موقع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تعریف و تحسین سے نوازا۔ اس طبقہ کے اندر حدیث مکمل طور پر سینوں میں موجود تھی اور چند صحابہ نے اپنی ذاتی یادداشت کے لئے حدیث کو لکھا ہوا بھی تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے حفظ و اتقان کے حوالے سے عقلی گفتگو