کتاب: محدث شمارہ 328 - صفحہ 51
٭ البتہ چند جدیدمحققین، فن حدیث کے اصولوں کو نظر انداز کر کے مطلق ردّ و قبول کے لئے اُصول بناتے ہیں کہ وہ قرآن اور عقل کے مسلمات کے خلاف نہ ہو اور اس کی تائید میں محدثین کی طرف سے خطیب بغدادی کی الکفایۃ کا بھی حوالہ دیتے ہیں ۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے: میزان ص۷ از جاوید احمد غامدی؛ مبادیٔ تدبر حدیث ازامین احسن اصلاحی نیز دیکھئے الکفایۃ في علم الراویۃ، باب ذکر ما یقبل فیہ خبر الواحد وما لایقبل فیہ) ٭ خطیب بغدادی کا درج بالا حوالہ اہل الرائے کے طریقے کے بیان پر محمول کیا جائے گا کیونکہ خطیب بغدادی سے پہلے کے ائمہ حدیث اور ان کے بعد اُصولِ حدیث کے تمام ماہرین جیسے حافظ ابن صلاح شہرزوری، امام ابن کثیر، حافظ عراقی، امام نووی، امام سیوطی، حافظ ابن حجر، حافظ سخاوی وغیرہم میں سے کسی نے اس انداز سے صحیح حدیث کے قبول و ردّ کا ذکر نہیں کیا البتہ فقہاے اہل الرائے کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ اس انداز سے بعض صحیح احادیث کو ردّ کرتے ہیں ۔ حدیث ضعیف کی پہچان اور اس کا عقلی جائزہ حدیث ضعیف وہ ہے جس کا صدق اس کے کذب کی بہ نسبت راجح نہ ہوسکے، اگرچہ مساوی ہو یا مرجوح ہو۔ ٭ یہ محدثین کے عقل و فن کی احتیاط کا کمال ہے کہ ثبوت و عدمِ ثبوت کامساوی احتمال رکھنے والی حدیث کوبھی ضعیف قرار دیتے ہیں ۔ ٭ شدید ضعف والی روایات بالاتفاق مردود ہیں ۔ ٭ البتہ بعض لوگوں کے نزدیک ضعیف حدیث فضائل اعمال میں مطلق طور پر مقبول ہوگی، بعض ضعیف احادیث کو فضائل اعمال میں بھی چند شرطوں کے ساتھ قبول کرتے ہیں ، مثلاً ۱۔ضعیف حدیث کسی صحیح حدیث کے معارض نہ ہو،۲۔ وہ حدیث کسی اَصل کے تحت ہو اور اس پر عمل کرتے ہوئے احتیاط کی نیت کی جائے، نہ کہ ثبوت کی۔ بعض فقہا نے نسبتاً کم ضعف والی احادیث کو احکام میں بھی قبول کیا ہے جیسے احناف اور حنابلہ وغیرہ۔ ان کا کہنا ہے کہ ضعیف حدیث میں صدق کا رجحان غالب نہیں ہوتا، لیکن بہرحال اس میں صدق کا اِمکان ہوتا ہے اور ایسی حدیث بہرحال مجرد انسانی رائے سے بہتر