کتاب: محدث شمارہ 328 - صفحہ 50
(تفصیل کے لئے دیکھئے: الرفع والتکمیل في الجرح و التعدیل از عبدالحی لکھنوی ،مقدمہ تقریب التہذیب بتقدیم محمد عوامہ و دیگر اسماء الرجال کے اُصولوں کی کتب) ٭ اور ائمہ نقد اپنے لاشعوری تعصب یا غلو سے بچنے کے لئے از خود یہ اُصول قائم کرتے ہیں کہ وہ تمام جرح ناقابل قبول ہوں گی جو کسی بڑے امام کے بارہ میں تعصب کے شائبہ کی بنا پر ہو۔ اس اُصول کے نتیجہ میں جرح و تعدیل کا علم خالص معروضی ہے ۔ اسی وجہ سے اگر کسی راوی کے بارے میں ائمہ ناقدین کاکوئی اختلاف ہے تو وہ قابل حل ہے، لا ینحل نہیں ۔ حدیث کے متن کی پہچان ٭ سند کے بعد حدیث کی صحت اور سقم کو پہچاننے کے لئے متن کی جانچ پڑتال بھی ضروری ہے، اس کو آج کل عموماً’اُصولِ درایت‘ کہہ دیا جاتا ہے۔اگر بالفرض فن حدیث میں اصول درایت کا یہ طریقہ معتبر ہو تو پھر بھی محدثین کے ہاں اس کے علمی ضوابط ہیں ،کیونکہ محدثین اُصولِ درایت میں صرف یہ دیکھتے تھے کہ حدیث کا متن شذوذ، علل اور منکر و مضطرب ہونے سے پاک ہو۔ ٭ موضوع حدیث کے اندر اُصولِ درایت یہ ہیں کہ موضوع روایات کے الفاظ حس، عقل سلیم، مسلمہ تاریخی روایات، مسلمہ شرعی قواعد اور قرآن کی صراحت کے خلاف ہوتے ہیں ۔ ٭ کسی محدث سے عملاًیہ ثابت نہیں کہ وہ فن حدیث کی رو سے روایت کے صحیح ثابت ہو جانے کے باوجود ایسی حدیث کے متن کی پرکھ کے لئے یہ لازم قرا ر دیتا ہو کہ معتبر حدیث وہ ہوتی ہے جو قرآن کے خلاف نہ ہو اور نہ علم و عقل کے مسلمات کے خلاف ہو۔ جمہور اہل سنت اور محدثین کامشہور نظریہ بیان کیاجاچکا ہے کہ صحیح حدیث کا ایسا ہونا ہی ناممکن ہے۔ ٭ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُصولِ حدیث کی بنیاد پر احادیث کو پرکھنے کا فن محدثین کے نزدیک عقلی اعتبار سے اس قدر مضبوط ہے کہ وہ تصور ہی نہیں کرسکتے کہ اُصولِ حدیث کی بنیاد پر صحیح قرار پانے والی کوئی حدیث قرآن، شرعی قواعد، عقل ِسلیم وغیرہ کے خلاف ہو۔ البتہ کسی جگہ ایسا شائبہ محسوس ہو تو محدثین ہمشہ تطبیق کے طریقے پر چلے ہیں اور تطبیق کی راہ میں اُنہوں نے کوئی مشکل محسوس نہیں کی۔