کتاب: محدث شمارہ 328 - صفحہ 49
کرتے جو رواۃ سے مل چکے ہوتے اور ائمہ نقد کا یہ گروہ ہر دور، ہر زمانے اور ہر علاقے میں سرگرم رہا ہے جو ضعیف راویوں کو صحیح راویوں سے الگ کرتا رہا ہے اور اس کی باقاعدہ تحریری یادداشت تبع تابعین کے دور سے ہی شروع ہوگئی تھی جس کو بعد ازاں یحییٰ قطان، علی بن مدینی،یحییٰ بن معین، احمد بن حنبل، ابوزرعہ، ابوحاتم اور امام بخاری رحمہم اللہ وغیرہ نے مدوّن کیا۔ (تفصیل کے لئے: تہذیب الکمال از علامہ مزی؛ تہذیب التہذیب ازحافظ ابن حجر و دیگر کتب اسماء الرجال نیز دفاعِ حدیث پر جدید فکری کتب جیسے اہتمام المحدثین بنقد الحدیث از ڈاکٹر لقمان سلفی، السنۃ ومکانتھا في التشریع الإسلامي از ڈاکٹر مصطفی سباعی، القرآنیون وشبھاتھم حول السنۃ از ڈاکٹرخادم حسین الٰہی بخش وغیرہ) ٭ نیز ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ’’راوی اپنی پہچان کے اعتبار سے تین اقسام پر ہیں ۔ بعض وہ جن کی عدالت تواتر سے ثابت ہے… الخ‘‘ ٭ اگرچہ یہ کہنا غلط ہے کہ قابل اعتمار راویوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچی ہے۔ محدثین کے نزدیک راویوں میں قابل اعتماد رواۃ فقط چندہزارنفوس پرمشتمل تھے جس کی تعداد تقریب التہذیب کے مطابق ۸۸۲۶ ہے۔ یہ وہ رواۃ ہیں جن سے صحاحِ ستہ کی تمام احادیث مروی ہیں اورصحاحِ ستہ علماے اسلام کے نزدیک معیاری مقبول احادیث کا سب سے بڑا مجموعہ ہے اور ان احادیث کے رواۃ بھی تاریخی اعتبارسے راویوں کے جم غفیر میں ہیروں کی طرح ہیں ۔ (تفصیل کے لئے : تقریب التہذیب از ابن حجر عسقلانی تقدیم محمد عوامہ ، دارالرشید ، شام) ٭ اگر کبھی ائمہ نقد کسی راوی کی حیثیت متعین کرنے میں اختلاف کرتے ہیں تو وہ صرف تعبیرات و اصطلاحات اور مزاج کا اختلاف کرتے ہیں ، وگرنہ حقیقت میں اختلاف نہیں ہوتا۔ چنانچہ ایسی صورت میں کسی نتیجہ پر پہنچنا آسان ہوتا ہے۔ ٭ اور اگر کوئی نتیجہ نہ نکل سکے تو راوی اپنی اختلافی حیثیت پر برقرار رہتا ہے اور اس کی حدیث بھی قطعی حجت نہیں ہوتی۔ یہ بات عقلاً کتنی مضبوط ہے کہ جو راوی مختلف فیہ ہے، اس کی روایت بھی قطعی حجت نہیں ۔ اس تناظر میں اسلامی منقولات کا تمام علم ایسی معقولیت پر مبنی ہے جس کا انکار صرف ہٹ دھرم اور خواہش پرست ہی کرسکتا ہے۔