کتاب: محدث شمارہ 328 - صفحہ 139
کون ہے تارک آئین رسول مختارؐ مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار ہوگئی کس کی نگاہ طرزِ سلف سے بیزار
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں کچھ بھی پیغام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تمہیں پاس نہیں
اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ:
پھر مفلسوں نے رکھ دیئے ان کے سروں پہ تاج جن رہبروں کا ان سے کوئی واسطہ نہیں
اے زمین! دوزخ کدہ ہے تو غریبوں کے لئے خون سے تو رہبروں کو پالتی ہے کس کے لئے؟
آج کے حاکم اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو میدان محشر میں کیا جواب دیں گے؟
بسنت گزرگئی، لیکن محبتوں کے شہد میں یہ زہرملا کرکیا ملا؟ ہنستی اور کھیلتی آنکھوں کورُلانے سے آپ کو کتنی خوشی ملی؟ اگر رونا مستقل ہے تو رُلانا کیا لازم ٹھہرا۔ رُلنا، رُلانا، رولنا کبھی اپنے دل کو پھرولنا، یہ تیری خوشی کیسی ہے؟ یہ خوشی ہے یا سفاکی۔ آنکھوں کے خواب اور ہاتھوں کے گلاب والے معصوم بچوں کی معصوم خواہشوں کو مٹی میں ملایا۔ خاک و خون کا کھیل رچا کر قیصر و کسریٰ سے نسبتیں قائم کرکے سوچا کہ تو نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ اگر تو یقین کی منزل سے دور تھا تو ان کا کیاقصور تھا، جن کی یقین کی منزل کو تو نے ہلاکے رکھ دیا۔ اسی پاک سرزمین پر پلا بڑھا، چلا پھرا اور اسی سرزمین کو خون سے نہلا کر ایسا صلہ کیا دیا؟ کیوں دیا؟
اگر قرآن وسنت کے نورسے حاکمیت کو منور کرکے لوگوں کے دلوں اور گھروں کے اندھیرے دور نہیں کرنا چاہتے تو قدیم چین کے اس بادشاہ کو پیش نظر رکھو جس نے دانش اور کنفیوشش کے پاس خود جاکر کامیابی کے لیے گُر پوچھے۔ تو اس نے تین امور پر توجہ دینے کے لیے کہا:1. ملکی سرحدوں کی حفاظت 2. خوراک کی یقینی فراہمی 3. حکمران پر عوام کا اعتماد۔ شاہ نے ترجیح پوچھی تو سرحدوں کی حفاظت اور عوامی اعتماد بتایاگیا۔
شاہ نے پھر پوچھا: ان دونوں میں سے ایک کو ترجیح دینی پڑے تو کنفیوشس نے کہا اپنے اور عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچانا۔ اسی سے وہ سرحدوں کی حفاظت میں حاکم کے ساتھ ہوں گے، چاہے انہیں بھوکا رہنا پڑے۔ اس نے کہا یاد رکھو عدم اعتماد ہوا تو مضبوط ترین فوجی طاقت اور اقتصادی خوش حالی بھی حکومت کو نہیں بچا سکتی اور نہ تاریخ میں نیک نامی ہوگی، کیونکہ جغرافیہ ہی ملک کا بدل جاتا ہے۔ ہمارے وطن عزیز کا ۷۱ء کا سانحہ مشرق پاکستان عدم اعتماد کا ہی شاخسانہ تھا۔اللہ تعالی سوچنے سمجھنے کی توفیق دے!