کتاب: محدث شمارہ 326 - صفحہ 93
اب ہم پہلے ان کے دعوے پرگفتگو کریں گے اور آخر میں ان کے نکالے ہوئے نتیجے پرتبصرہ کریں گے۔ کیاحدیث سے علم یقین حاصل نہیں ہوتا؟ حقیقت یہ ہے کہ اس بات پر تمام محدثین اور فقہاے اسلام کا اجماع اور اِتفاق ہے کہ خبر متواتر ،جو حدیث ہی کی ایک قسم ہے، اس سے علم یقین حاصل ہوتا ہے۔ غامدی صاحب جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حدیث سے علم یقین حاصل نہیں ہوتا تو وہ ایک ایسی بات کرتے ہیں جس کا اہل علم میں سے کوئی بھی قائل نہیں ۔ باقی اب اجماعِ اُمت کے مقابلے میں تنہا غامدی صاحب کی رائے کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟ پھر اس بات پر تمام محدثین عظام اور فقہاے کرام کا اجماع اور اتفاق ہے کہ اخبارِ آحاد کا درجہ اگرچہ اخبار متواترہ سے کچھ کم ہے، تاہم جب وہ صحیح ہوں تو وہ بھی دین میں حجت اوردلیل ہوتی ہیں اور ان سے بھی ہر طرح کے شرعی احکام اَخذہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر کوئی مسلمان اپنے وارث کے حق میں مالی وصیت نہیں کرسکتا اور نہ وہ ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرسکتا ہے۔ یہ دونوں مسلمہ اجماعی شرعی احکام ہیں مگر یہ صرف اور صرف اخبارِ آحاد سے ثابت ہیں ۔ اگر اخبارِ آحاد کو دین سے نکال دیا جائے تو پھر دین اسلام کے ۹۰ فیصد حصے کو بھی دین سے خارج کرنا پڑے گا اور اسلامی احکام و تعلیمات کوچھوڑنا پڑے گا۔ اور ہم یہ بات پورے حزم و احتیاط سے بیان کررہے ہیں ، ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اخبارِ آحاد ترک کرنے سے ہمیں پورا دین ترک کرنا پڑے گا اور اپنے ایمان سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے، کیونکہ ہمارا کلمہ اسلام (کلمہ طیبہ اور شہادتین) لا الہ اِلا اللہ محمّد رسول اللہ صرف اور صرف اخبارِ آحاد ہی سے ثابت ہے، ان کے سوا اس کلمے کا اثبات کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں ۔ یہ کلمہ نہ توقرآن سے ثابت ہوتا ہے اور نہ غامدی صاحب کی بتائی ہوئی ’سنت‘ سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ جب کہ حال یہ ہے کہ اس کلمے کے اِقرار ہی سے کوئی شخص دین کے دائرے میں داخل ہوتا اور اس کے انکار سے وہ دین کے دائرے سے باہر نکل جاتاہے۔یہی کلمہ اسلام اور کفر میں امتیاز اور حد فاصل ہے۔اسی کو پڑھنے سے آدمی مسلمان ہوتا