کتاب: محدث شمارہ 326 - صفحہ 87
اسی طرح دیگر دینی اصطلاحات کے ساتھ بھی وہ یہی سلوک کرتے ہیں ۔ ایک طرف وہ شرعی اصطلاحوں کے اصلی مفاہیم سے انکاری ہیں مگر انہی اصطلاحات کے استعمال پر مُصر ہیں ۔ ان کا حال یہ ہے کہ منکر ِ مَے بودن وہم رنگ ِ مستان زیستن 2. غامدی صاحب نے مذکورہ عبارت کے ذریعے اپنے قارئین کو دوسرا یہ دھوکا اور مغالطہ دینے کی سعی فرمائی ہے کہ اُنہوں نے شروع ہی میں یہ کہہ دیا ہے کہ وہ آگے چل کر جن باتوں کادعویٰ کریں گے اور جو کچھ اپنے جی سے بیان کریں گے، وہ از خود اتنی واضح اور مبنی برحقیقت ہوں گی کہ کوئی صاحب ِعلم نہ تو اُن سے اختلاف کرسکتا ہے اور نہ اُن کو ماننے سے انکار کی جرا ء ت کرسکتا ہے؟ جبکہ اُن کے کسی دعوے کوتسلیم کرنا کسی صاحب ِعلم پر لازم نہیں اور وہ غامدی صاحب کی کسی بھی بات سے اختلاف کا حق رکھتا ہے، کیونکہ شریعت اسلامیہ میں اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا ہر شخص سے اختلاف کی گنجائش ہے اور اس حوالے سے قرآن و سنت کی نصوص کی تصریحات موجود ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا غامدی صاحب معصوم عن الخطا ہیں کہ اُن کی کسی بات میں غلطی کا کوئی امکان نہیں ؟ یاوہ وحی کی زبان میں گفتگو فرماتے ہیں کہ ان سے دوسرے اہل علم کو اختلاف کی مجال نہیں ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر وہ کس برتے پر اپنے خیالات اور دعاوی کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’’یہ دو باتیں ایسی واضح ہیں کہ کوئی صاحب ِعلم اُنہیں ماننے سے انکار نہیں کرسکتا۔‘‘ گویاہر صاحب ِعلم کے لئے ضروری ہے کہ وہ غامدی صاحب کے رطب و یابس پرآمنا وصدقنا کہے، ورنہ اُسے صاحب ِعلم ہونے کے اِعزاز سے محروم ہونا پڑے گا۔ 3. مذکورہ تحریر کے ذریعے غامدی صاحب یہ مغالطٰہ اور دھوکا بھی دینا چاہتے ہیں کہ پہلے تو وہ جوش میں آکر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث کی حفاظت اور تبلیغ و اشاعت کے لئے کبھی کوئی اہتمام نہیں کیا۔‘‘ لیکن پھر اُن کو جلد یہ خیال آجاتا ہے کہ اتنا بڑا جھوٹ تو کسی عام پڑھے لکھے آدمی کو بھی ہضم نہیں ہوگا، اس لئے وہ اس عبارت کے نیچے فٹ نوٹ میں دبے لفظوں کے ساتھ لکھ