کتاب: محدث شمارہ 326 - صفحہ 155
میں اُن کا مقابلہ کہاں کر سکتا ہوں ؟ 6. وعدے کی پابندی: وعدے کی پابندی مؤمن کے اوصاف میں شامل ہے،مگر افسوس کہ وعدے کی پاسداری ہمارے معاشرے میں اس قدر نادر ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور دین دارلوگ بھی اپنے وعدوں کی پروا نہیں کرتے۔مگر حافظ صاحب نے جس جگہ پہنچنے کا وعدہ کیا یا آپ سے جولوگ تقاریر کے وعدے لے کر جاتے، وہ خود بھول جاتے مگر آپ حسب ِوعدہ دعوت وتبلیغ کے لئے پہنچ جاتے۔ ان کی ڈائری میں شاید ہی کوئی تاریخ خالی ملتی، سال بھر اور زندگی بھر ان کی یہی صورت رہی ۔ 7. شادی خانہ آبادی کے معاملے میں رہنمائی: ہمارے معاشرے میں مناسب رشتوں کا نہ ملنا اس دور کا سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ اس سلسلے میں آپ ہمیشہ تعاون پر آمادہ رہتے اور فریقین کی آسانی کے لئے مطلوبہ معلومات فراہم کرنے میں خصوصی مدد کیا کرتے۔ پھر ایسے شادی بیاہ میں شمولیت سے بھی گریز کرتے تھے تا کہ کل کوئی فریق کسی قسم کا اعتراض نہ کر سکے۔ ازدواجی معاملے طے کروانے کی وجہ یہ تھی کہ اچھے لوگوں کواچھے رشتہ دار حاصل ہوجائیں اور کوئی شخص غلط لوگوں کے ہتھے نہ چڑھ جائے۔ 8. مرکز البدر میں ماہانہ جمعہ: ماہِ رمضان المبارک کا پورا مہینہ آپ مرکز ادارۃ الا صلاح بونگا بلوچاں میں قیام کرتے اور تمام خطباتِ جمعتہ المبارک کا فریضہ سرانجام دیتے جبکہ باقی گیارہ مہینوں میں صرف ہر چاند کا دوسرا خطبہ یہاں ارشاد فرماتے۔ باقی خطباتِ جمعہ مختلف مقامات پر جا کر دیتے جن کا لوگوں نے چھ ماہ قبل وعدہ لیا ہوتا تھا۔ ادھر مرکز ادارۃ الاصلاح میں مختلف علماے کرام کو پابند کر رکھا تھا جو ہر ماہ ایک خطبہ دیتے۔ان میں راقم الحروف کے والد گرامی شیخ الحدیث مولانا محمد عطاء اللہ حنیف ڈاہروی حفظہ اللہ بھی شامل ہیں ۔ آپ نے بھی ایک عرصہ تک حافظ صاحب کی غیرموجودگی میں یہ فریضہ انجام دیا ہے۔ 9. صفائی اور سادگی میں نمونہ:آپ کا لباس ہمیشہ معمولی قسم کالیکن صاف ستھرا ہوتا۔ صفائی کاخاص خیال رکھتے، اسی طرح مرکزادارۃ اصلاح کے باورچی خانے سمیت ہر جگہ کو خوب صاف رکھواتے، کسی جگہ کے بارے میں آپ کو کوتاہی کا علم ہو جاتا توبغیر کسی حیل وحجت یہ فریضہ خود سرانجام دیتے ۔ لوگوں نے اکثر دیکھا کہ مرکز الاصلاح کے غسل خانوں کو کئی دفعہ خود