کتاب: محدث شمارہ 326 - صفحہ 145
یادِر فتگان حکیم محمد یحییٰ عزیز ڈاہروی نمونۂ سلف :حافظ محمد یحییٰ عزیز میر محمدی دین اسلام کی تعلیمات کو فروغ دینے کے لئے دعوت وتبلیغ کا کام جس قدر ضروری تھا، آج اُمت ِمسلمہ ا س قدر ہی اسے آگے پھیلانے میں سستی سے کام لے رہی ہے۔ انبیاے کرام علیہ السلام کے دعوتی مشن کو فروغ دینے کے لئے ہر دور میں اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے خوش نصیب بندے پیدا ہوئے جنہوں نے معاشرے کی اصلاح، شرک وکفر کے ردّ، ظلم وناانصافی، قتل وغارت گری، فحاشی و عریانی کے خاتمے اور تعلق باللہ میں رسوخ وپختگی کے لئے اور قرآن وحدیث کی تعلیمات کو فروغ دینے میں اپنی پوری زندگی وقف کردی۔ ایسے خوش نصیب حضرات میں ہمارے ممدوح متحدہ جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر اور ادارۃ الاصلاح البدر، بونگہ بلوچاں نزد پھولنگر ضلع قصور کے بانی، ولی ٔکامل نمونۂ سلف حضرت حافظ محمد یحییٰ عزیز میرمحمدی رحمہ اللہ کا شمار بھی ہوتا ہے۔ آپ نے دنیا ومافیہاسے بے نیاز ہو کر اپنی زندگی کو اُمت ِمسلمہ کی اصلاح و تربیت کے لئے وقف کررکھا تھا۔ آپ کی شخصیت غیر متنازع اور ہرطبقے اور ہر فرد کے لئے قابل احترام تھی۔ آپ کو جس نے ایک بار دیکھا، وہ آپ کی شخصیت سے بے حد متاثر ہوا۔ آپ کی آواز میں اللہ تعالیٰ نے ایسی حلاوت،گفتگو میں متانت اور اس قدر شرینی رکھی تھی، خصوصاً جب آپ اپنے مخصوص انداز میں قرآنِ مجید کی تلاوت فرماتے تو سخت سے سخت دل میں نرمی پیدا ہو جا تی تھی ۔ آپ کی شخصیت نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو کی آئینہ دار تھی۔کسی کو کافرکہنا،کسی کو منافق قراردینا،کسی کو بے دینی کی حدوں میں داخل کردینا یا کسی پر شرک کا فتویٰ لگانا ان کا شیوہ نہیں تھا۔ حتیٰ کہ آپ کسی کے بارے میں غیبت اور ناشائستہ گفتگو سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔