کتاب: محدث شمارہ 324 - صفحہ 131
کو قتل کرکے انصاف حاصل کرنے کی کوشش کی۔ انبیاے کرام علیہ السلام کی لائی ہوئی وحی کے ساتھ ساتھ لوگوں کی بے پروائی اور اللہ کے نظام سے انکار بھی ایک مسلمہ حقیقت رہی ہے چنانچہ اس بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ عدل کا باضابطہ نظام آہستہ آہستہ معاشروں میں ترقی حاصل کرتا رہا۔ جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ
’’قدیم زمانے میں انسان اپنے نزاع کا تصفیہ ذاتی طاقت اور قوت کے استعمال سے کرتا تھا۔ اور ذاتی انتقامی کاروائی انصاف کے خلاف استعمال ہوتی تھی۔‘‘[1]
’’ابتدائی زمانہ میں جب انسان کی طرزِ معاشرت وحشیانہ تھی اور منظم ومنضبط حکومتوں کا قیام نہیں ہوا تھا، ستم رسیدہ اور متضرراشخاص اپنا انتقام آپ لیا کرتے تھے اور اگر ایک شخص کی دوسرا حق تلفی کرتا تو دوسرا اپنے حق کو بچانے کے لیے جنگ وجدل اور دھینگا مشتی سے اپنی آپ مدد کرتا تھا۔بعض وقت ضرررسیدہ کے قرابت دار اور احباب بھی اس کے دشمنوں سے انتقام لینے میں اس کے شریک ہوجاتے تھے۔‘‘[2]
ایک زمانے میں مظلوم اپنی مدد آپ کرسکتا تھا، پھر وہ دور آیا کہ اس حق پر کچھ پابندیاں عائد کر دی گئیں ۔ پھر زمانہ بدلا اور حق لینے کے لیے صاحب ِرسوخ کی زیر نگرانی ڈوؤل (Dual)لڑنے کا رواج متعارف ہوا۔ پھر وہ وقت آیا کہ تنازعات کو ثالثوں اور پنچائتوں کے سپرد کرنے کا رواج چل نکلا۔ لیکن جب سلطنتیں مضبوط اور مستحکم ہوگئیں تو اُنہوں نے باقاعدہ عدالتیں قائم کردیں جو انصا ف کرنے کے معاملے میں فرمانروا کی نمائندہ قرار دی گئیں اور اس طرح نظامِ معدلت وجود میں آگیا۔
تاریخ کے مطالعے سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ نظامِ عدل کا قیام حکومتوں اور سلطنتوں کی مضبوط مستحکم قوت کی بنا پر معرضِ وجود میں آیا۔ نظامِ معدلت کو قائم کرنے کے لیے ایک مضبوط اور پائیدار حکومت کا ہونا ضروری ہے۔ تمام اربابِ خیرفطری طور پر اپنے معاملات ایسے رہبر کے سپرد کردینا چاہتے ہیں جو اُنہیں ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے روکے اور مخاصمت باہمی میں ان کے درمیان فیصلہ کرے۔ اگر ذی اقتدار اَفراد نہ ہوں تو عالم میں شخصی انار کی پھیل جائے اور تہذیب ِ اجتماع کا شیرازہ بکھر جائے۔[3]