کتاب: محدث شمارہ 323 - صفحہ 76
آتے، لہٰذا جائز ہیں ۔ دلائل سب کے پاس تھے۔ بنیاد سب کی’قرآن و سنت‘ تھی مگر چونکہ معاملہ ضد کا نہیں ، تفہیم کا تھا، لہٰذا ایک متفقہ موقف سامنے آگیا، جس کو اتفاقِ رائے کی بنیاد کہاجاسکتا ہے۔ جس میں کہا گیا کہ یہ وسیع تر اجلاس اس رائے کا اظہار کرتاہے کہ اسلام کاپیغام دوسروں تک جلد اور مؤثر انداز میں پہنچانے اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف غلط فہمیوں اور پروپیگنڈے کے اِزالے کے لئے علما کو ٹی وی پروگراموں میں حصہ لینا چاہئے اور الیکٹرانک میڈیا کے لئے ایسے تعمیری اصلاحی اور تعلیمی پروگرام تیار کئے جانے چاہئیں جو منکرات سے پاک ہوں ۔ اسلامی دعوت و اصلاح اور تبلیغ کے لئے مفید ہوں ، جن سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کاتدارک ہوتا ہو۔ شیخ الحدیث مولانا عبدالعزیز علوی نے اس پر یہ اضافہ کیا کہ ’’میڈیا پر جو تصاویر آتی ہیں ، ان کو ناجائز اور حرام سمجھتے ہوئے ’’إلا من أکرہ وقلبہ مطمئن‘‘ کے پیش نظر میڈیا پر دفاعِ اسلام درست ہے۔‘‘ آراء میں بعد المشرقین اور اختلاف کی انتہا کے باوجود علماء کا ایک نکتے پر متفق ہونا بہرحال ایک احسن اقدام ہے۔ برادرم حسن مدنی نے ’سونے پر سہاگہ‘ والا کام یہ کیا کہ اس مجلس میں ہونے والی ساری بحث کو’ محدث‘ کے جون کے شمارے میں شائع کردیا ہے اور ہر نقطہ نظر کے پیچھے کارفرما استدلال کی نشاندہی کرنے کی بھی کوشش کی، جس سے ایک عام آدمی بھی تصویر اور ویڈیو کے حوالے سے اس تحقیقی گفتگو سے استفادہ کرسکتا ہے۔ اس سارے عمل میں شریک رہنے والے تمام حضرات نہ صرف مبارکباد کے مستحق ہیں بلکہ ان سے یہ بھی گزارش ہے کہ یہ ایک ابتدائی قدم ہے، اس پر ابھی کامل اتفاقِ رائے کی خاطر لازم ہے کہ مزید بحث ہو اور علماء کو تحقیق کا مزید موقع دیا جائے۔ اس کے ساتھ اس کام کو ذرا وسعت دی جائے اور اس کی رفتار میں خاطر خواہ اضافہ کیاجائے۔ اس میں شبہ نہیں کہ علمی اور دینی مسائل انتہائی احتیاط کے متقاضی ہیں مگر ایک ایک معاملے پر سال سال بعد اجلاس بھی کچھ مناسب نہیں ۔ اس کے لئے مستقل بنیادوں پر موضوعاتی کمیٹیاں بنا کر کام کو وسیع اور سبک رفتار کیا جاسکتا ہے تاکہ مجتہدانہ کاوشوں کو مزید توسیع دی جاسکے۔ (تحریر:سیف اللہ خالد … روزنامہ’اُمت‘ کراچی : ۲۳/جون ۲۰۰۸ء)