کتاب: محدث شمارہ 323 - صفحہ 70
پوز بنانے کے شوق میں نہیں کہ إنما الأعمال بالنیات
جان بچانے کے لئے اگر بقدرِ ضرورت حرام کھانے کی اجازت ہے تو ایمان بچانا اس سے بھی اہم تر ہے۔ اس لئے ضرورۃً ایسے پروگرام میں شرکت یقینا باعث ِعفو ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث نہیں بنے گا۔ والسلام
(مولانا) ارشاد الحق اثری
3. تبصرہ سید حامد عبد الرحمن الکاف، یمن
مسئلہ تصویر یوں تو ہردور میں ایک زندہ حقیقت کی حیثیت سے گرماگرم بحثوں اور مباحثوں کا مرکز بنارہا ہے، لیکن نائن الیون کے بعد اہل صلیب اور اہل صہیون نے بعض ایسے مسلمانوں کے تعاون سے جو شکست خوردگی اور مغرب سے مرعوبیت کے مرضِ مہلک کا شکار ہیں ، اسلام اور مسلمانوں پرجہاں بڑے پیمانے پر ہلاکت کرنے والے ہتھیاروں کو پوری درندگی اور بے رحمی سے استعمال کیاہے،وہاں اُنہوں نے میڈیا کے سمندروں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالمی پیمانے پر زہرناک پروپیگنڈوں کے سونامیوں کو بھی اُبالا اور پھیلایا ہے تاکہ مادی پہلو کے ساتھ ساتھ معنوی پہلوؤں پر بھی یلغار کرکے مسلمانوں کے عقائد، عبادات، معاملات، تاریخ اور تہذیب وثقافت کونیست و نابود کیاجاسکے۔ ان میڈیائی سونامیوں کی اونچی اونچی موجیں اتنی طاقتور تھیں کہ عام طور پر علماے اسلام ان کی خطرناکیوں اور تباہ کاریوں سے بے حد پریشان ہوئے۔پانچ سال تک یہی صورتِ حال رہی۔ بالآخر چھٹے سال ۲۰۰۷ء میں پاکستان میں ’’جملہ مکاتب ِفکر کی سرکردہ علمی شخصیات پر مشتمل ’ملی مجلس شرعی‘ کے نام سے ایک مستقل پلیٹ فارم تشکیل دیاگیاتھا جس کا ہدف یہ تھا کہ ’’فروعی اختلافات سے بالاتر رہتے ہوئے عوام الناس کو اسلام کی روشنی میں درپیش مسائل کا حل‘‘ پیش کیاجائے۔ اس مجلس شرعی کے تاسیسی اجلاس (منعقدہ جامعہ نعیمیہ، لاہور) میں سب سے پہلے مسئلہ تصویر موضوع بحث بنا۔ چنانچہ اِمسال ۱۳/اپریل ۲۰۰۸ء کو ’ملی مجلس شرعی‘ کے پلیٹ فارم سے جملہ مکاتب ِفکر کاایک وسیع سیمینار منعقد ہوا جس میں 1. بریلوی مکتب ِفکر سے چار، 2. دیوبندی مکتب ِفکرسے پانچ، 3. اہل حدیث مکتب ِفکر سے چار اور جماعت ِاسلامی سے شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک (مہتمم مرکز علوم اسلامیہ،