کتاب: محدث شمارہ 322 - صفحہ 62
5. توہین رسالت کو بھی ارتداد کے تحت ہی لاتے ہوئے اس کی سزا قتل قرار دی گئی ہے، جیسا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھیج کرگستاخانِ رسول کوقتل کرایا۔ ٭ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے : أَیُّمَا مُسْلِمٍ سَبَّ اﷲَ وَرَسُولَہُ أَوْ سَبَّ أَحَدًا مِنَ الأَنْبِیَائِ فَقَدْ کَذَبَ بِرَسُولِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَہِیَ رِدَّۃٌ یُسْتَتَابُ فَإِنْ رَجَعَ وَإِلاَّ قُتِلَ وَأَیُّمَا مُعَاہِدٍ عَانَدَ فَسَبَّ اﷲ أَوْ سَبَّ أَحَدًا مِنَ الأَنْبِیَائِ أَوْجَہَرَ بِہِ فَقَدْ نَقَضَ الْعَہْدَ فَاقْتُلُوہُ(زاد المعاد ۵/۶۰) ’’جس مسلمان نے اللہ یا اس کے رسول یا انبیا میں سے کسی کو گالی دی، اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی، وہ مرتد سمجھا جائے گا اور ا س سے توبہ کروائی جائے گی، اگر وہ رجوع کرلے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا اور جو معاہدہ کرنے والا شخص خفیہ یا اعلانیہ، اللہ یا کسی نبی کو بُرا کہے تو اس نے وعدے کو توڑ دیا، اس لئے اسے قتل کردو۔‘‘ ٭ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے : لا واﷲ ما کانت لِبَشر بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم (سنن ابوداؤد: ۴۳۶۳’صحیح‘) مختصراً ’’اپنی توہین کرنیوالے کو قتل کروا دینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے لئے روا نہیں ہے۔‘‘ ٭ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا گیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا تھا تو فرمایا: من سبَّ اﷲَ أو سبَّ أحدا من الأنبیاء فاقتلوہ (الصارم المسلول: ص۴۱۹) ’’جس نے اللہ کویا انبیاے کرام علیہ السلام میں سے کسی کو گالی دی تو اسے قتل کردیا جائے۔‘‘ ٭ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیاکہ ’’جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی، اس کی گردن مار دی جائے۔‘‘ (مصنف عبد الرزاق: ج۵/ص ۳۰۸) ٭ پاکستانی قانون میں یہ سزا[1] موجود ہے، دیکھیں قانون توہین رسالت کی دفعہ ۲۹۵ ج ’’آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس نام کی بذریعہ الفاظ، زبان، تحریر یا دکھائی دینے والی اشکال کے ذریعے یا بذریعہ تہمت یا طعن آمیز اشارے یا درپردہ الزام کے ذریعے، براہِ راست یا بالواسطہ توہین کرے گا، تو اسے سزاے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی، اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔‘‘ (مجموعہ تعزیرات پاکستان: دفعہ ۲۹۵ ج) [1] اس سزا کی مزید تفصیل اور احادیث کے لیے دیکھیں محدث کا شمارہ مارچ 2008ء