کتاب: محدث شمارہ 319 - صفحہ 64
کہا:ہمارے بیٹے کو لوگ طعنہ دیں گے کہ کھجور کے ایک وسق کے لئے گروی رکھا گیا تھا۔ البتہ ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھ دیں گے۔ کعب نے کہا: ٹھیک ہے! پھر محمد بن مسلمہ نے اس سے وعدہ کیا کہ میں حارث (بن اوس)، ابوعبس بن حبیب اور عباد بن بشر کو لے کر آؤں گا۔ یہ آئے اور رات کو اسے بلایا۔ جب وہ ان کی طرف جانے لگا تو اس کی بیوی نے کہا: مجھے ایسے لگتا ہے جیسے اس آواز سے خون ٹپک رہا ہو۔کعب نے کہا واہ! یہ تو محمد بن مسلمہ اور اس کا رضاعی بھائی ابونائلہ ہیں اور باہمت مرد کا کام یہ ہے کہ اگر رات کو بھی اسے لڑائی کے لئے بلایا جائے تو چلا آئے۔ محمد (بن مسلمہ)نے (اپنے ساتھیوں سے)کہا کہ جب کعب آئے گا تو میں اپنا ہاتھ اس کے سر کی طرف بڑھاؤں گا اور جب وہ میری گرفت میں آجائے تو تم اپنا کام کرجانا۔ پھر کعب خوشبو لگائے ہوئے آیا تو اُنہوں نے کہا: تم سے کتنی عمدہ خوشبو آرہی ہے۔ کعب نے کہا: ہاں ! میرے ہاں فلاں عورت ہے جو عرب کی سب عورتوں سے زیادہ معطر رہتی ہے۔ محمدبن مسلمہ نے کہا اگر تم اجازت دو تو میں تمہارا سر سونگھ لوں ۔ کعب نے کہا: ہاں اجازت ہے ! محمد نے اس کا سرسونگھا، پھر پکڑا پھر سونگھا پھر کہا: اگر اجازت دو تو دوبارہ سونگھ لوں ؟ اور اسے اچھی طرح تھام لیا پھر اپنے ساتھیوں سے کہا: اس کا کام تمام کردو! اُنہوں نے اسے قتل کردیا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ ‘‘ 2. نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَی کَانَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَکَانَتْ لَہُ أُمَّ وَلَدٍ، وَکَانَ لَہُ مِنْہَا اِبْنَانِ، وَ کَانَتْ تَکْثُرُ الْوَقِیعَۃَ بِرَسُولِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَ تَسُبُّہُ فَیَزْجُرُہَا فَلاَ تَنْزَجِرُ وَیَنْہَاہَا فَلاَ تَنْتَہِی، فَلَمَّا کَانَ ذَاتَ لَیلَۃٍ، ذَکَرْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَوَقَعَتْ فِیہِ، فَلَمْ أَصْبِرْ أَنْ قُمْتُ إِلَی الْمِغْوَلِ فَوَضَعْتُہُ فِی بَطْنِہَا فَاتَّکَأْتُ عَلَیہِ فَقَتَلْتُہَا، فَأَصْبَحَتْ قَتِیلًا فُذُکِِرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَجَمَعَ النَّاسَ وَقَالَ: ((أَنْشُدُ اﷲَ: رَجُلًا لِی عَلَیہِ حَقٌ فَعَلَ مَا فَعَلَ إِلاَّ قَامَ)) فَأَقْبَلَ الأَعْمَی یَتَدَلْدَلُ فَقَالَ یَارَسُولَ اﷲِ أَنَا صَاحِبُہَا کَانَتْ أُمُّ وَلَدِی، وَکَانَتْ بِی لَطِیفَۃً رَفِیقَۃً وَلِیَ مِنْہَا إِبْنَانِ مِثْلُ اللُؤْلُؤَتَینِ، وَلَکِنَّہَا کَانَتْ تَکْثُرُ الْوَقِیعَۃَ فِیکَ وَتَشْتُمُکَ فَأَنْہَاہَا فَلاَ تَنْتَہِی أَزْجُرُہَا فَلاَ تَنْزَجِرُ فَلَمَّا کَانَتِ