کتاب: محدث شمارہ 319 - صفحہ 20
تاریخ قرآن شیخ عبد الفتاح عبد الغنی القاضی قسط سوم ترجمہ : محمد اسلم صدیق المُصحف الشریف؛ ایک تاریخی جائزہ خلفاے راشدین کے عہد کے بعد مصاحف کی تدوین گذشتہ صفحات میں ہم تفصیل سے واضح کرچکے ہیں کہ دور ِعثمانی میں مصاحف کی جو نقلیں تیار کرکے مختلف بلادِ اسلامیہ کو بھیجی گئیں تھیں ، وہ ایسے رسم الخط پر مشتمل تھیں جو ساتوں حروف کا متحمل سکے ۔ اسی مقصد کے پیش نظر ان مصاحف کو نقطوں اورحرکات سے خالی رکھا گیا تاکہ ان حروف کی تمام متواتر قراء ات __ جو عرضۂ اخیرہ کے وقت باقی رکھی گئی تھیں اور ان کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی __ ان میں سما جائیں ۔[1] اور جب یہ مصاحف مملکت ِاسلامیہ کے اطراف میں پہنچے تو مسلمانوں نے اُنہیں ہاتھوں ہاتھ لیا اور پوری اُمت ِمسلمہ نے اُن کو اپنا لیا۔ پھر اُنہوں نے ان مصاحف کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی طرز پر مزید کافی مصاحف تیار کئے۔ ان کو بھی وہی تقدس اور احترام حاصل تھا جو مصاحف ِعثمانیہ کو حاصل تھا اور یہ بھی مصاحف ِعثمانیہ کی طرح نقطوں اور حرکات سے خالی تھے۔ یہ مصاحف ایک زمانہ تک بلادِ اسلامیہ میں رائج رہے، لیکن جب اسلامی فتوحات کا دائرہ وسیع ہوگیا، بے شمار عجمی ممالک اسلام کے زیر سایہ آگئے اور عربی اور عجمی زبانوں کا باہم اختلاط بڑھا توعربی زبان میں لحن عام ہوگیا۔ اوریہ خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں فصیح عربی زبان عجمی اثرات سے ناپید نہ ہوجائے۔ مزید یہ کہ عجمی لوگوں کے لئے قرآنِ کریم کو بغیر نقطوں اور حرکات کے پڑھنا کافی دشوار تھا ۔چنانچہ اسلامی حکومت کے سامنے یہ خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ صورت حال کتاب اللہ میں لحن اور لفظی تحریف پر منتج نہ ہو۔ لہٰذا اُنہوں نے اس صورت حال کے ممکنہ نتائج [1] ویسے بھی عربوں کے ہاں حروف پر نقطے اور حرکات لگانے کا رواج بھی نہیں تھا ۔عربی ان کی مادری زبان تھی اور وہ اسے بغیر نقطوں اور حرکات کے پڑھنے میں نہ صرف یہ کہ کوئی دقت محسوس نہیں کرتے تھے بلکہ نقطے اور حرکات ڈالنے کو معیوب خیال کرتے تھے۔ (مترجم)