کتاب: محدث شمارہ 316 - صفحہ 58
اس رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ امریکہ کو ایک نئے اسلام کی ترویج کا ذمہ اپنے اوپر لیناچاہئے، ایک ایسا اسلام جو امریکی مفادات کے مطابق ہو :
"Benard in her report suggest that America take upon itself to devise nothing less than a new "Islam" carefuly crafted in order to suit American interest."
’’ بینارڈ نے اپنی رپورٹ میں یہ مشورہ بھی دیا کہ امریکہ ایک نیا اسلام وضع کرنے کا کام اپنے ذمے لے جو بڑی احتیاط سے گھڑا جائے تاکہ وہ امریکی مفادات کے لئے سازگار ہو۔‘‘
سو پاکستان میں جدت پسند اور نئے اسلام کے حامی اور دیگر سیکولر خیال کی پولیٹیکل پارٹیز اسلامی قوانین، فوجداری نظام اور نظامِ تعلیم کو مغربیت کے پیمانے پر جانچتے ہوئے تبدیل کرنا چاہتے ہیں ۔ حالانکہ مسلمانوں کے قوانین، روایات اور نظام کی روح اور مقاصد مغرب کے قوانین، روح اور مطمع نظر اور نظام سے کسی طور میل نہیں کھاتا۔ یہی وجہ ہے کہ دو قومی نظریہ، قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ اور شاعر مشرق کے خیالات اور سوچ کو نئے معانی پہنائے جارہے ہیں بلکہ اب تو کچھ لوگ دو قومی نظریہ سانحۂ ۱۹۷۱ء کے ساتھ ہی کالعدم اور غیر مؤثر ہونے کا پرچار بھی کررہے ہیں ۔یقین نہیں آیا تو دیکھئے اخبار ’ڈان‘ کا اداریہ مؤرخہ۹ دسمبر ۲۰۰۶ء
اس یلغار کو روکنے کے لئے اسلامیانِ پاکستان کو آئین پاکستان، اس کے اسلامی نظریہ اور نظام کو بچانے کے لئے ایک سوچ اور ایک انداز کے ساتھ متحد ہوکر آگے آنا ہوگا۔ وگرنہ خالق و مالک کا فیصلہ تو اَٹل ہے ہی۔‘‘ (روزنامہ ’نوائے وقت‘ لاہور: ۴،۵ جنوری۲۰۰۷ء)
زیربحث قانون کی وضاحت کے لئے چند واقعات اور خبریں
علاوہ ازیں چند واقعات بھی جواخبارات میں شائع ہوئے ہیں ، ہماری آنکھیں کھولنے اوراس قانون کی اصل حقیقت (جس کی وضاحت مذکورہ سطور میں کی گئی ہے) مزید واضح کرنے کے لئے کافی ہیں مثلاً ،پیر پگاڑا نے اپنے اخباری ویاکھیان میں کہا:
٭ ’’خواتین حدودبل وقت کی ضرورت ہے… چار دیواری کے اندر بے ہودگی کی اجازت ہونی چاہئے۔‘‘
(’نوائے وقت‘ لاہور : ۷ دسمبر ۲۰۰۶ء)
بے ہودگی کا مطلب وہی جنسی آزادی ہے جس کی سہولت تحفظ ِخواتین ایکٹ میں دی گئی