کتاب: محدث شمارہ 313 - صفحہ 79
معلوم نہیں آخری ہچکی لیتے ہوئے اس کا سرکس کے زانو پر دھرا تھا۔ مولانا فضل الرحمن خلیل مجھ سے کہہ رہے تھے ’’اعجاز الحق تمہارا دوست ہے۔ خدا کے لئے اسے کہو کہ غازی کی میت ہمارے حوالے کردیں ۔ یہ لوگ اسے زبردستی روجھان مزاری لے جاناچاہتے ہیں ۔ اس کی بیوی، اس کی بہنیں دہائی دے رہی ہیں ، شہید کی آخری وصیت تو پوری ہونے دیں ۔‘‘ میں نے اعجاز الحق کے تمام معلوم نمبروں پر رابطے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ بات ہو بھی جاتی تو وہ کیاکرلیتا؟ یہاں تو ۳۴۲ /ارکان کی پارلیمنٹ اور ۸۰ وزرا کی جہازی کابینہ ہوتے ہوئے بھی فیصلے فردِ واحد کے کنجِ لب سے پھوٹ رہے ہیں ۔ سرنڈر پوائنٹ بنانے، ہتھیار ڈلوانے، ہاتھ اُٹھا کر مارچ کرانے کی خواہش بیمار آسودہ ہوگئی۔ بے چہرہ بندوبست کے سیاہ کارناموں کی کتابِ سیاہ میں سب سے شرمناک باب کا اضافہ ہوگیا۔ فتح مندی کا جنوں بپھر نہ جاتا تو اس قتلِ عام کو روکا جاسکتا تھا۔ پرلے درجے کی بے حکمتی اور خودسری معاملات کو ایسے موڑ پر لے آئی جہاں تناؤ بڑھتا ہی چلا گیا۔ صدر مشرف اور ان کے رفقا ابتدا ہی سے لال مسجد والوں کو نمونۂ عبرت بنانے پر بضد تھے۔ کابینہ کے دو وزرا، ان کی خوشنودی کے لئے ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔ جس کسی نے صلح صفائی کی بات کی، اسے نکو بنا دیا گیا۔ سلجھاؤ کی کوششوں کو مخلصانہ ریاستی سرپرستی حاصل ہی نہ ہوسکی۔ صدر بلوچستان کے سیلاب زدگان کو تسلی دینے گئے اور کمانڈو کی وردی پہن کر اعلان کیا: ’’یہ مارے جائیں گے … یہ مارے جائیں گے۔‘‘ اُنہوں نے ایسا ہی ایک اعلان نواب اکبر بگٹی کے بارے میں کیا تھا: ’’یہ لوگ اس طرح مارے جائیں گے کہ اُنہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کس شے نے ہٹ کیا۔‘‘ پھر بگٹی پہاڑ کے ایک غار میں بھسم ہوگیا۔ چودھری شجاعت نہ بگٹی کو بچا سکے نہ غازی کو۔ کوئی نواب ہو کہ مولوی، غار نشین ہو کہ حجرہ نشین، رعونت کی طاقت آزمائی کسی کو معاف نہیں کرتی۔ یہ وہی حکمت ِعملی ہے جسے ٹکا خان نے مشرقی پاکستان میں آزمایا تھا اور جو اندھی، گونگی اور بہری قوتیں اپنی رعایا سے روا رکھتی ہیں !! کہا گیا ’’غازی آئین اور قانون کامجرم تھا، اسے کس طرح راستہ دیتے؟‘‘ کون سا آئین اور کیسا قانون؟ جہاں آئین کے سب سے جابر اور کڑے ضابطے کو روندنے والے ریاست کے سب سے بڑے منصب کے حق دار بھی ٹھہریں ، وہاں بھی کوئی آئین، کوئی قانون ہوتا ہے؟ اور پھر مولانا فضل الرحمن خلیل اور دیگر علما کی مساعی سے جب ایک مفاہمت طے پاگئی تھی، وزرا کی مذاکراتی ٹیم اور وزیراعظم نے اس کی توثیق کردی تھی تو صدر نے اسے کیوں ویٹو کردیا؟ مجھے فضل الرحمن خلیل صاحب ہی نے بتایا کہ سب کچھ طے پاگیا تھا لیکن پنڈی کیمپ آفس جانے والوں نے تین گھنٹے لگا دیئے اور پھر واپس آئے تو ان کی جیبیں بارود سے بھری ہوئی تھیں ۔ ضیاء الحق کے دور میں ’الذوالفقار‘ نے پاکستانی طیارہ اغوا کرکے کابل پہنچا دیا۔ اغوا کاروں نے ایک سابق فوجی افسر کو قتل بھی کردیا۔ اُنہوں نے سو کے لگ بھگ دہشت گردوں کو رہا کرنے کامطالبہ کیا جو قتل و غارت گری اور غداری جیسے سنگین مقدمات میں ملوث تھے۔ ضیاء الحق نے مسافروں کی جانیں بچانے کے لئے ان سب کو رہا کرکے ، ہائی جیکرز کے مطالبے کے مطابق دمشق پہنچا دیا۔ بھارت کا طیارہ اغوا کرکے قندھار پہنچا دیا گیا۔ ہائی جیکرز نے بھارتی جیلوں میں بند کچھ ایسے قیدیوں کی رہائی کا