کتاب: محدث شمارہ 313 - صفحہ 52
اس صورتِ حال میں ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقہ نے جو عقلیت کا بڑا دعویدار ہے، ایک ایسی روش اختیار کی جو سراسر عقل کے خلاف ہے۔ اس روش پر چلتے ہوئے، اس میں ایسے متناقض اُصول جمع ہوگئے ہیں جن کے مجموعہ کو عقلیت سے موسوم کرنا عقلیت کو بے عقلیت کا ہم معنی بنا دینا ہے۔ عقلیت کا اوّلین اور بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی مسئلہ میں بھی کوئی رائے بلاتحقیق قائم نہ کی جائے اور تحقیق کا معنی یہ ہے کہ انسان دوسروں کی جیب میں اپنے ایمان ڈال کر ان کی اندھی تقلید کرنے کی بجائے خود اپنی سعی و کاوش سے حقیقت کا سراغ لگائے اور جس مسئلہ کی حقیقت وہ معلوم کرنا چاہتا ہے اس کی بابت زیادہ سے زیادہ صحیح اور معتبر ذرائع سے معلومات فراہم کرکے ان سے بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ پھر ایک صاحب عقل و دانش محقق کی شان یہ ہے کہ 1. نہ وہ وہم و گمان اور شک و شبہ پر اپنی رائے کی بنیاد رکھتا ہے اور2. نہ ہی وہ دوسروں کی عبارات میں اپنے ہی خیالات کو پڑھنے کا خوگر بنتا ہے اور 3. نہ ہی وہ یہ بددیانتی کرتا ہے کہ اپنے مخالفین کومطعون کرنے کی خاطر ان کے قوی دلائل سے صرفِ نظر کرکے کمزور باتوں کو زورِ آزمائی کے لئے تلاش کرتاہے، اور 4. نہ ہی وہ چند سنی سنائی باتوں اور چند کتابوں کے سرسری مطالعہ سے سطحی معلومات حاصل کرکے ان پر اعتماد کرتے ہوئے رائے قائم کرتاہے۔ لیکن ہمارے دور کے علمبرداران عقلیت اور عقل و دانش کی بنیاد پر قرآن کو سمجھنے اور سمجھانے کے دعویدار ان تمام رذائل و معائب میں مبتلا ہیں ۔ یہ لوگ عقلیت کے نام پر بلا تحقیق، سرسری اور سطحی معلومات پر اپنی رائے قائم کرکے، اُنہیں بلا تکلف شائع کرڈالتے ہیں تاکہ اپنے شکوک و شبہات کو دوسروں تک متعدی کردیں اس مقصد کے لئے خیانت و بددیانتی، دجل و فریب اور کذب و افترا کے حربے استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ ہمارے تعلیم یافتہ طبقے میں سے پرویزی گروہ کا اصل مرض یہ ہے کہ وہ ’تعلیم بلا معلّم‘، ’کتاب بدونِ پیغمبر‘ اور ’قرآن بغیر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘ کا نرالا مسلک ایجاد کرتے ہیں اور کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باہمی تعلق کو کاٹ پھینکتے ہیں ۔ ان کے نزدیک ہدایت و نجات کے لئے صرف کتاب اللہ ہی کافی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے براہِ راست لوگوں تک پہنچانے کی بجائے یہ فعل عبث کیا کہ اسے نبی کے واسطہ سے پہنچا دیا اور پھر دوسری غلطی (معاذ اللہ) خداے قدوس نے یہ کی