کتاب: محدث شمارہ 313 - صفحہ 49
المراسلات‘ کا ایک مستقل عنوان قائم کررکھا تھا تاکہ ان کے مسائل و مشکلات کا شرعی حل (اپنے انفرادی اجتہاد) سے دے سکیں ۔ اُنہوں نے کبھی کسی سائل اور مستفسر کو یہ نہیں کہا کہ میاں ! میں نہ تو’مرکز ِملت‘ ہی ہوں اور نہ ہی ملت ِاسلامیہ کا ’نمائندہ‘ ہوں ۔ لہٰذا میں اپنے ’انفرادی قیاس و اجتہاد‘ کی بنا پر تمہارے مسائل کا شرعی حل پیش کرنے کا مجاز نہیں ہوں ۔ اگر میں ایسا کروں تو یہ ’ملائیت‘ ہوگی، ’قرآنیت‘ نہیں ہوگی۔ لہٰذا ہم سب کے لئے شرعی طرزِ عمل صرف یہی ہے کہ ’مرکز ملت‘ کو وجود میں لانے کی جان توڑ جدوجہد کریں اور جب تک یہ نہیں ہوتا، اس وقت تک تمہارے مسائل کے شرعی حل بھی اور خود قرآنِ کریم بھی معطل رہیں گے۔ کیاستم ظریفی ہے کہ اگر ’مفکر قرآن‘ صاحب نکاح و طلاق، وراثت و وصیت، نماز وروزہ، حج و زکوٰۃ، قربانی و اضاحی، معیشت و معاشرت، سیاست و عمرانیات، مزارعت ومخابرت، حدود و تعزیرات اور عدلیہ و انتظامیہ وغیرہ کے متعلق اُمور پر قلم کشی کرتے جائیں تو ان سب کا مجموعہ ’قرآنی فیصلے‘ قرار پاتے ہیں ۔ لیکن اگر فقہاے کرام قرآن و سنت کی بنیاد پر تدبر و تفکر فرمائیں اور اپنے نتائجِ فکر کو قلم بند کریں تو یہ ’مذہبی پیشوائیت‘کا ’عجمی اسلام‘ قرار پائے۔ خلاصۂ بحث الغرض حقائق کی روشنی میں اگر بے لاگ تحقیق کی جائے تو ’ملائیت‘ کا ادارہ طلوع اسلام کا ادارہ ہے، نہ کہ دیگر دینی جماعتیں ۔ اس لئے کہ اقتدارِ وقت کے ساتھ ’ملی بھگت‘ اور راہ و رسم کا رویہ اوّل الذکر ہی نے اپنائے رکھا ہے نہ کہ مؤخر الذکر نے۔ اور اس لئے بھی کہ اگر ’مفکر قرآن‘ کے نزدیک ’ملائیت‘ اس چیز کا نام ہے کہ … دین کے احکام جاننے کے لئے نظامِ اسلامی کے مرکز کی طرف رجوع کرنے کی بجائے افراد کی طرف رجوع کیاجائے اور یہ حق نمائندگانِ ملت کو نہ دیا جائے بلکہ دوسرے افراد کو دیا جائے کہ ملت کے لئے شریعت کا قانون مرتب کریں ، تب بھی ’مفکر قرآن‘ خود ایسا کرنے کی بنا پر ’ملائیت‘ کے مصداق قرار پاتے ہیں ۔ لیکن ’’کرو خود، مگر الزام دوسروں پر لگاؤ‘‘ کی پالیسی کے تحت’ملائیت‘، ’مذہبی پیشوائیت‘ ’پریسٹ ہڈ‘ اور ’تھیا کریسی‘ کی اصطلاحات کی آڑ میں وہ نشانہ علماے کرام، محدثین عظام اور مفسرین و مجتہدین کو بناتے رہے ہیں ۔ میرے نزدیک اس کی تین وجوہ ہیں :