کتاب: محدث شمارہ 313 - صفحہ 46
اولاً … یہ کہ اسلامی زندگی کے احکام کا مصدر و مخرج، تنہا قرآن نہیں بلکہ قرآن وسنت دونوں ہیں ۔ عہد ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت ِراشدہ میں جو اسلامی حکومت قائم تھی، ا س کا آئین و دستور بھی تنہا قرآن نہیں بلکہ قرآن کے ساتھ سنت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھا جیسا کہ مندرجہ ذیل اقتباس سے واضح ہے۔ یاد رہے کہ یہ اقتباس ایک کٹر منکر حدیث اسلم جیراجپوری صاحب کا ہے جو ’مفکر قرآن‘ صاحب کے استاد تھے اور جس کتاب سے یہ اقتباس ماخوذ ہے، وہ طلوعِ اسلام ہی کے ایک ادارہ میزان پبلی کیشنز کی شائع شدہ ہے: ’’خلافت ِراشدہ میں تشریع کی بنیاد قرآن اور سنت پر تھی۔ اگر کوئی ایسا واقعہ پیش آجاتا جس کے بارے میں کوئی صریح حکم ان دونوں میں نہ ملتا تو امثال اور نظائر سے قیاس کرکے اس کا حکم نکالتے تھے۔ خلیفہ استنباطِ مسائل میں دیگر علما ومجتہدین سے کوئی خاص امتیاز نہیں رکھتا تھا بلکہ اکثر خود ان سے سوال کرتا یا اپنے اجتہاد میں مدد لیتا تھا۔ اگر کسی امر میں سب لوگ متفق ہوجاتے تو اس کا اتباع لازمی ہوجاتا۔ اسی کو اصطلاحِ فقہ میں اجماع کہتے ہیں اور اگر باہم اختلاف ہوتا تو خلیفہ ان میں سے کسی صورت کو ترجیح دے کر اس کے مطابق حکم دیتا تھا۔ الغرض خلیفہ کو کوئی تشریعی اختیار یا کوئی اس قسم کی دینی ریاست حاصل نہ تھی کہ وہ جو چاہے حکم دے دے، وہی مذہبی مسئلہ قرار پاجائے بلکہ وہ احکام دینی کو صرف نافذ کرنے کا مجاز تھا۔‘‘[1] لہٰذا پہلی بات تو یہی غلط ہے کہ خلافت راشدہ میں قوانین و احکام کا سرچشمہ صرف قرآن تھا اور سنت ِرسول ماخذ اسلا م نہ تھی۔ ثانیاً … خلافت ِفاروقی میں عرب و ایران اور عراق و مصر پر پھیلی ہوئی وسیع و عریض مملکت میں لوگوں کے لئے یہ بات نہ تو عملاً ممکن ہی تھی اور نہ ضروری ہی تھی کہ اپنے ہر مسئلے کے حل کے لئے وہ ’مرکز ِملت‘کی طرف رجوع کرتے اور وہاں سے ’نمائندگان ملت کے اجتماعی اجتہاد‘ پر مبنی فیصلہ پاکر واپس لوٹتے۔ لامحالہ صورت حال یہی تھی کہ ہر جگہ کے لوگ اس عالم ہی کی طرف رجوع کرتے تھے جو علم و تقویٰ، فہم و فراست، درک و بصیرت اور اجتہاد و استنباط میں دوسروں پر فوقیت رکھتا تھا۔ ایسے صاحب ِعلم و فضیلت لوگوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ مختلف اَمصار و دیار میں معلم بناکر بھیجا کرتے تھے تاکہ وہ عامۃ الناس کو قرآن و سنت کی تعلیم دیں ۔ چنانچہ اُنہوں نے اپنی [1] تاریخ الامت، ج۲ ص۲۵۷