کتاب: محدث شمارہ 313 - صفحہ 42
قرار دے دیا گیا تھا جسے بعد میں سپریم کورٹ نے بحال کردیا۔ ایوبی حکومت کو جس کی پشت پر پرویز صاحب کے ’مفکرانہ مشورے‘ اور ’دانشورانہ تجاویز‘ اور ’بصیرت افروز‘ تدابیر بھی موجود تھیں ، اس عدالتی جنگ میں شکست فاش ہوئی تھی۔ اسی ایوبی دور میں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کو سزاے جیل بھی دی گئی تھی۔ کیا اب بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ پرویز صاحب نے اربابِ اقتدار سے اپنے روابط کے باعث کوئی مفاد نہیں اُٹھایا؟ بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کے ہر صاحب ِاقتدار سے تعلق رہے ہیں ۔ جاگیر و فیکٹری نہ لینے کے باوجود بھی وہ متنوع انداز میں اربابِ بست و کشاد سے متمتع ہوتے رہے ہیں ۔ جلب ِمنفعت کی صورت میں بھی اور اپنے مخالفین کے خلاف اپنے نفس حسد پرست کی تسکین کی صورت میں بھی۔ کرو خود اور الزام دوسروں پر لگاؤ! لیکن اپنی خامی کو چھپانے کے لئے وہ اُلٹا الزام علماے کرام پر لگایا کرتے تھے کہ ’مذہبی پیشوائیت‘ اور ’اقتدار و ملوکیت‘ میں ہمیشہ گٹھ جوڑ رہا کرتا ہے اور پھر اس گٹھ جوڑ کی تان یہاں آکر ٹوٹا کرتی تھی کہ… ’’پاکستان میں ملائیت کے منظم ادارے کے سرخیل سید ابوالاعلیٰ مودودی ہیں ‘‘ …اب اگر واقعی یہ حقیقت ہے کہ ’ملائیت‘ اپنے دور کی ’ ملوکیت و اقتدار‘ کی حامی ہوتی ہے، تو پھر مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اور جماعت ِاسلامی آخر کس قسم کی ’ملائیت‘ ہیں جو اربابِ حکومت اور اہل اقتدار کی حامی و ناصر ہونے کی بجائے ہر حکومت کے خلاف رہے ہیں ۔ حقائق کی روشنی میں ’ملائیت‘ کا مصداق پاکستان میں تحریک ِطلوعِ اسلام سے بڑھ کر اور کون سی تحریک ہوسکتی ہے جس کے سرخیل نے اربابِ حکومت کی بہتی گنگا سے ہمیشہ ہاتھ دھوئے ہیں ۔ ہر حکمران سے خوشگوار تعلقات استوار کئے رکھے ہیں ۔ ہر سربراہِ پاکستان سے راہ و رسم برقرار رکھی ہے۔ مخفی دروازوں سے اربابِ حکومت کے ساتھ ’شریفانہ معاہدے‘ کرتے رہے ہیں ۔ اربابِ اقتدار سے مالی اعانت وصول کرتے رہے ہیں ۔ اپنے صحافتی آرگن کو، ان گوشوں تک پہنچاتے رہے ہیں جن تک پہنچنا اہل اقتدار کی آشیرباد کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔ اپنے فکری حریفوں کو نیچا دکھانے کے لئے اربابِ اقتدار کے ساتھ اپنے روابط کو استعمال کرتے رہے