کتاب: محدث شمارہ 313 - صفحہ 38
رہا ان ’مطہر اور مقدس‘ ہستیوں کی قرآنی حدود کی پاسداری تو اس کی قلعی اس مقالہ میں بھی جگہ جگہ کھلتی نظر آتی ہے اور میری اس کتاب میں بھی جو’’جناب غلام احمد پرویز صاحب اپنے الفاظ کے آئینے میں ‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وابستگانِ ’طلوعِ اسلام‘ ، میکیاولی سیاست کے اس دور میں ’’قرآنی حدود میں رہتے ہوئے کامیاب نہیں ہوسکتے‘‘ تو کیا پھر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ بنیادی جمہوریتوں کے انتخابات میں کامیاب ہونے والوں نے ’’جماعت ِاسلامی کی پالیسی اختیار کرکے‘‘ کامیابی حاصل کی تھی؟ ؎ اُلجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں لو آپ اپنے دام میں صیّاد آگیا ۱۹۵۴ء کی مقننہ کے خاتمہ میں کردار ِ پرویز خواجہ ناظم الدین ایک شریف النفس سیاست دان تھے اور چاہتے تھے کہ ملک کواسلامی خطوط پر چلایا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس مزاج کا آدمی طلوع اسلام ( یا پرویز صاحب) کو طبعاً گوارا نہیں جس میں ایسی اسلامیت کی ذرا سی رمق بھی پائی جائے جو کتاب اللہ کے ساتھ ساتھ سنت ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دلیل ٹھہراتا ہو، پھر اس پر مستزاد یہ کہ اس کی وزارت میں مقننہ جو آئین بنا رہی تھی وہ بہرحال قرآن و سنت پرمبنی تھا۔ ایسے آئین سے بڑھ کر ’غلط اور خطرناک آئین‘ پرویز صاحب کی نگاہ میں اور کیا ہوسکتا تھا اور جو قانون ساز اسمبلی، ایسا آئین بنا رہی تھی اس کا وجود ’مفکر ِقرآن‘ کے لئے کیونکر قابل برداشت ہوسکتا تھا۔ اس لئے اُنہوں نے اس وقت کے ہمہ مقتدر گورنر جنرل ملک غلام محمد کو مشورہ دیا کہ مقننہ میں قرآن و سنت کی بنیاد پر آئین سازی کا اب تک جو کام ہوچکا ہے، اسے کالعدم قرار دیا جائے اور صرف قرآن ہی کی بنیاد پر از سر نو دستور سازی شروع کی جائے۔ ’’کرنے کاکام یہ ہے کہ جو کچھ اس وقت تک اس جذبے کے ماتحت ہوا ہے، اس پر خط ِتنسیخ کھینچ دیا جائے۔ ملک سے ایسے اربابِ فکر و نظر کو اکٹھا کرلیا جائے جو یہ بتا سکیں کہ دورِ حاضرہ کے تقاضوں کوپورا کرنے کے لئے قرآن کون کون سے اُصول دیتا ہے اور ان اُصولوں کی روشنی میں فکرِ انسانی کے مطابق اپنا آئین مرتب کرلیا جائے۔‘‘[1] [1] طلوع اسلام، مئی ۱۹۵۳ء، صفحہ ۱۱