کتاب: محدث شمارہ 313 - صفحہ 35
اسلام کو چھوڑ کر مسلمان بنے رہنے کا اچھا نسخہ کون سا ہوسکتا ہے۔ اس لئے حکمرانوں کے ساتھ ’مفکر قرآن‘کی راہ و رسم کا ہونا عین قرین قیاس ہے، لیکن ’مفکر قرآن‘ کے حکمرانوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا ہونا محض قیاس و گمان ہی کا تقاضا نہیں ہے بلکہ طلوعِ اسلام کے مشمولات بھی اسے امر واقعہ قرار دیتے ہیں : ’’پرویز صاحب کے قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر ان تمام حضرات سے جو وقتاً فوقتاً صاحب ِاقتدار رہے، اچھے مراسم تھے، لیکن اُنہوں نے ان میں سے کسی سے بھی کوئی مفاد حاصل نہیں کیا، نہ کوئی منصب مانگا، نہ کوئی اعزاز طلب کیا، نہ کوئی فیکٹری الاٹ کرائی، نہ جاگیر حاصل کی۔‘‘[1] فی الحال، اس بات کو نظر انداز کیجئے کہ اُنہوں نے اربابِ اقتدار سے کوئی مفاد حاصل کیا یا نہیں ۔ صرف یہ دیکھئے کہ وہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ’’قیامِ پاکستان کے بعد ہمارے جو راہنما برسراقتدار آتے رہے، ان میں سے قریب قریب ہر ایک کے ساتھ میری راہ و رسم تھی۔‘‘[2] صرف یہی نہیں بلکہ اربابِ اقتدار کو وہ اپنے سالانہ کنونشنوں میں مدعو کیا کرتے تھے، اور حکومتی وزرا کرسئ صدارت پر جلوہ افروز ہوکر شریک ِکنونشن ہوا کرتے تھے۔صرف ایک مثال ملاحظہ فرمائیے: ’’طلوعِ اسلام کے کنونشن کے اجلاس، منعقدہ ۱۲ نومبر کی صدارت محترم المقام خواجہ شہاب الدین صاحب مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات نے فرمائی۔‘‘[3] ارباب ِ اقتدار سے استفادۂ پرویز اب رہی یہ بات کہ ’مفکر قرآن‘ نے، اربابِ اقتدار سے اپنی ’قرآنی خدمات‘ کا کوئی اجر، کوئی معاوضہ اور کوئی مفاد حاصل نہیں کیا تو ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ بات مان لے کہ اُنہوں نے مادی طور پر(Materially)کوئی فائدہ نہ اُٹھایا ہو، لیکن اسے یہ بات ضرور ذہن نشین کرنی چاہئے کہ مفاد صرف وہی نہیں ہوتا، جو عہد، منصب، جاگیر یا فیکٹری ہی کی صورت میں [1] طلوع اسلام، جنوری۱۹۷۴ء صفحہ ۲۳ [2] طلوع اسلام، فروری ۱۹۷۸ء صفحہ ۵۶+مارچ ۱۹۸۵ء صفحہ ۶۰ [3] طلوع اسلام، دسمبر ۱۹۶۷ء، صفحہ۱۴