کتاب: محدث شمارہ 310 - صفحہ 84
بہتیرے ہوں گے لیکن انہی کی زبان سے ایک شاہد کی شہادت سنتے جائیے… والد صاحب کہتے ہیں :جن دِنوں میں اسلامی نظریاتی کونسل (پاکستان) کا ممبر تھا اور جسٹس تنزیل الرحمن کی صدارت کازمانہ تھا۔ کونسل میں یہ بحث چھڑی کہ حاکم یا امیر کی مدتِ امارت متعین ہونی چاہئے یا نہیں ، یعنی الیکشن ہو یا نہ ہو؟ میں نے کہا: مدت متعین نہیں ہونی چاہئے۔ خلفاے راشدین اپنی وفات یا شہادت تک امیر رہے ہیں ۔ جسٹس صاحب کہنے لگے کہ دلیل لاؤ۔ میں نے وہ روایت پیش کی جس میں اُمرا کی سمع و طاعت کاذکر ہے اور آخر میں : ما أقاموا الصلاۃ ’’جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں ۔‘‘ اُس پر جسٹس صاحب خوش ہوکربولے، حدیث تو آپ سے پڑھنی چاہئے۔ اگلے چھ سال (۱۹۴۲ء سے ۱۹۴۸ء) راقم الحروف کی جاے پیدائش مالیرکوٹلہ اُن کا مستقر رہا۔ مشرقی پنجاب میں مالیر اور کوٹلہ کی آبادیوں پرمشتمل تیس ہزار نفوس کی یہ ریاست وہ واحد مسلم ریاست تھی جس نے تقسیم کے وقت فسادات کے موقع پر مہاجرین کے لئے ایک آسرا بہم پہنچایا۔ یہ ریاست مشرق میں سکھوں کی ریاست نابھ، مغرب اور جنوب میں ریاست پٹیالہ اوراس کے کچھ قصبات جیسے دُھوری اور ریاست جینو کے کچھ اَطراف، اور شمال میں ضلع لدھیانہ سے گھری ہوئی ہے۔ ابا جان ’کوثر العلم‘ مدرسہ میں پڑھاتے بھی رہے اور مسجد ِاہلحدیث میں جمعہ کا خطبہ بھی دیتے رہے۔ میری (پیدائش نومبر۱۹۴۲ء) تختی کا آغاز بھی اسی مدرسہ سے ہوا۔ مالیر کوٹلہ ابا جان کی سسرال بھی تھی، اس لئے یہاں کا قیام متعدد مصلحتوں سے وابستہ تھا۔ مالیر کوٹلہ میں جن تلامذہ نے ابا جان سے تعلیم کاآغاز کیااور پھر عربی دانی میں خوب شہرت پائی، ان میں سرفہرست مولانا عاصم ہیں ، جن کا گھرانہ پیشے کے اعتبار سے لوہار تھا۔ عاصم ابا جان کے پاس عربی پڑھتے اور دوسرے دروس میں شریک ہوتے۔ ایک دن اُن کے والد آئے اور خفگی کااظہارکیا کہ لڑکا تو مسیتـڑا ہوا جاتا ہے، وہ اُنہیں اپنے پیشے سے وابستہ کرناچاہتے تھے۔ ایک طرف والد کی خواہش اور دوسری طرف طلب ِعلم کی شدیدلگن،اس لئے مناسب یہی سمجھا گیاکہ عاصم راتوں رات لدھیانہ تشریف لے جائیں ، اور پھر اُنہوں نے بقیہ تعلیمی مراحل عربی کے مشہور انشاء پرداز مولانا مسعود عالم ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ گزارے اورعربی میں اتنا کمال