کتاب: محدث شمارہ 310 - صفحہ 55
3. وَقَرْن فِیْ بُیُوْتِکُنَّ پر عورت کے عمل کرنے کو، حبسِ بے جا قرار دینا 4. خواتینِ خانہ کو گھر سے نکال کر مردانہ کارگاہوں میں لاکھڑا کرنا 5. خانگی زندگی کے فطری وظائف سے منحرف کرکے، مستورات کو مردانہ مناصب پر براجمان کرنا۔ 6. مخلوط سوسائٹی کی حمایت کرنا 7. مخلوط تعلیم کو جائز قرار دینا 8. مرد و زَن میں مغربی طرز کی مطلق مساوات کو قائم کرنا، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اَفضلیت ِاُناث کا نظریہ پیش کرنا 9. عقائد ِاسلام میں کمی و بیشی کرتے ہوئے صرف ’پانچ‘ کی تعداد ہی کو پیش نظر رکھنا 10.اشتراکیت کے اقتصادی نظام کو قرآن کے جعلی پرمٹ پر درآمد کرنا تلــــک عشـــــرۃ کـــــاملــــۃ سنت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سندیت اور حدیث ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی حجیت سے انکار کرتے ہوئے’مفکر ِقرآن‘ صاحب نے بڑی جاں سوز مشقت، جگر پاش محنت، جاں گسل کاوش کے ساتھ قرآنِ کریم سے وہ ’انقلابی اسلام‘ ڈھونڈ ڈالاجس کے مندرجہ بالا اجزا سرمایہ دارانہ تہذیب اور اشتراکی تمدن میں بغیرکسی قرآن کے پہلے سے موجود ہیں ۔ ’مفکر ِقرآن‘ صاحب کے نزدیک یہی ’قرآنی دین‘ اور ’انقلابی اسلام‘ ہے۔ رہا قرآن و سنت پر مبنی وہ اسلام جو بعثت ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک اُمت ِمسلمہ کے سلف و خلف پیش کرتے رہے ہیں تو وہ ہمارے ’مفکر قرآن‘ صاحب کے نزدیک ایک ’پامال شدہ، دقیانوسی اور عجمی اسلام‘ہے۔ جو نہ تو ’عقل و فکر کے تقاضوں ‘کو پورا کرتا ہے اور نہ ہی اس میں ’ندرتِ نگاہ اور جدتِ فکر‘ کا کوئی شائبہ پایا جاتاہے۔ حتیٰ کہ قرآن وسنت کی اساس پر اسلام کو پیش کرنے والا عالم دین خواہ قدیم و جدید علوم پر کتنی ہی دسترس رکھتا ہو، پرویز صاحب کے نزدیک وہ پرانا اور دقیانوسی اسلام ہی پیش کرتا ہے۔ چنانچہ وہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق یوں گوہر افشانی فرماتے ہیں : ’’مودودی صاحب کے پاس کوئی نئی چیز پیش کرنے کو نہیں ہوتی۔ اُنہیں نہ جدتِ فکر نصیب