کتاب: محدث شمارہ 308 - صفحہ 92
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی روایت ِحدیث میں حد درجہ محتاط تھے، بکثرت روایت سے منع فرماتے۔ بلاتحقیق کوئی حدیث قبول نہ فرماتے۔ حفاظت ِحدیث میں ان کا عظیم کردار ہے۔ مگر بدنصیب منکرین حدیث ان کے اس احتیاط کو انکارِ حدیث کا بہانہ بناتے ہیں ۔ جبکہ حدیث میں احتیاط کا یہ طرزِ عمل محدثین کرام کا طرۂ امتیاز ہے۔ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ انکار کرتے اور استغنا برتتے تھے تو پھر احتیاط کی کیا ضرورت تھی؟ پھر کلیةً روایت سے منع کردیتے مگر وہ انتہائی محب الحدیث اور ذاتی رائے کو مکروہ سمجہتے تھے۔ ایک بار حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یاد دلایا کہ آنحضرت نے جب معروف حدیث (من كذب علي متعمدًا فليتبوأ مقعده من النار) بیان فرمائی تھی تو آپ فلاں مقام پر ہمارے ساتھ تھے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہاں میں جواب دیا اور حدیث بھی سنائی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: إذا أذكرت ذلك فاذهب فحدِّث“ (مقدمہ صحیح مسلم) ”اگر تمہیں یہ فرمانِ رسول یاد ہے تو جاؤ حدیث بیان کرو۔“ یہی حدیث ِمبارک محدثین کرام کے منہجِ روایت اور تحقیق کی اساس ہے اور اسی موضوع پر اور بھی متعدد روایات صحیحین میں مذکور ہیں ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی حدیث کی حجیت کے صراحةً قائل تھے۔ ان سے ایک سو چھیالیس (146) احادیث مروی ہیں ۔ اُنہوں نے اپنے اوّلین خطبہ خلافت میں فرمایا تھا: خبردار! لوگو میں پیروی کرنے والا ہوں ، نئی راہ نکالنے والا نہیں ہوں ، مجھ پر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پیروی کے بعد تمہارے تین حق ہیں ۔“ (تاریخ طبری :3/446) روایت ِحدیث اور سنت پر شدت سے عمل پیرا ہونے کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ بھی محتاط تھے اور حفاظت ِحدیث میں آپ رضی اللہ عنہ کی احتیاط کا بڑا کردار ہے۔ مسنداحمد میں منقول ہے : ما يمنعني أن أحدث عن رسول الله أن لا أكون أوعى أصحابه عنه ولكنى أشهد لسمعته يقول من قال علي مالم أقل فليتبوأ مقعده من النار“ (مسنداحمد 1/470، ترمذی: کتاب العلم 5/35) ”میں اگر حدیث بیان نہیں کرتا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ میں نے دیگر اصحاب کی نسبت کم احادیث یاد کی ہیں ۔ لیکن بات یہ ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا