کتاب: محدث شمارہ 308 - صفحہ 135
فقہ واجتہاد ڈاکٹر صالح بن حسین العاید آخری حصہ4 مترجم: محمد اسلم صدیق بلادِ اسلامیہ میں غیر مسلموں کے عام حقوق 7.غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کا حق قرآنِ کریم نے اس سلسلہ میں یہ عظیم اور اساسی اُصول بیان کیا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ برتاوٴ اور لین دین میں اصل یہ ہے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ اختیار کیا جائے اور ان کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے میں اس وقت تک ہاتھ نہ کھینچا جائے جب تک ان کی طرف سے صریح دشمنی اور عہد شکنی کا کوئی عملی مظاہرہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَايَنْهٰكُمُ الله عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فی الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أنْ تَبَرُّوْهمْ وَتُقْسِطُوْا إِلَيْهمْ إنَّ الله يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ. إنَّمَا يَنْهاكُمُ الله عَنِ الَّذِيْنَ قَاتَلُوْكُمْ فی الدِّيْنِ وَأَخْرَجُوْكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهرُوْا عَلٰی إخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلُّوْهمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهمْ فَأُوْلٰئِكَ همُ الظّٰلِمُوْنَ﴾ ”اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاوٴ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے، اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ وہ تمہیں جس بات سے روکتا ہے وہ تو یہ ہے کہ تم ان لوگوں سے دوستی کرو جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے اِخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے، ان سے جو لوگ دوستی کریں ، وہی ظالم ہیں ۔“ مذکورہ آیت میں لفظ بِرّ ( بھلائی)، معاملہ حسنہ (حسن سلوک) سے زیاہ وسیع مفہو م کا حامل ہے۔ یہ لفظ حسن سلوک کے علاوہ اور معانی بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ امام قرافی رحمۃ اللہ علیہ اس کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” ان کے کمزور لوگوں پر نرمی کی جائے۔ ان کے محتاجوں کی ضروریات کو پورا کیا جائے۔ ان