کتاب: محدث شمارہ 308 - صفحہ 124
قبول عمل بلکہ ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہیں اور روشِ تقلید کو دخولِ جہنم کا سبب گردانتے ہیں ، چنانچہ وہ بڑی بلند آہنگی کے ساتھ یہ کہتے ہیں : ”یقینا اللہ تعالیٰ نے تقلید کو حرام قرار دے کر نیز کتاب اللہ میں یہ تصریح فرما کر کہ اللہ تعالیٰ تقلید کو قبول نہیں کرے گا، نہ آخرت میں مقلد کو معذور اور قابل معافی سمجھے گا، بالواسطہ ہر ایک کے لئے خود اعتقادی کے ساتھ دین کا استدلالی علم سیکھنا فرض قرار دیا ہے۔“[1] ”قرآن کے نزدیک عقل و فکر سے کام نہ لینا اور دوسروں کی اندہی تقلید کئے جانا، ایسی روش ہے جو اَفراد اور اَقوام دونوں کو جہنم میں جاگراتی ہے۔“[2] ’مفکر ِقرآن‘ جناب پرویز صاحب کے ان اقتباسات کی روشنی میں مصورِ پاکستان جناب علامہ ا قبال رحمۃ اللہ علیہ کا دنیا و آخرت میں جو مقام قرار پاتا ہے، وہ واضح ہے لیکن چونکہ کلامِ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے ’شارح‘ اور فکر ِاقبال رحمۃ اللہ علیہ کے ’وارث‘ ہونے کی حیثیت سے، اُنہیں یہ گوارا نہیں کہ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ واصل جہنم ہوں ، اس لئے وہ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے نظریہٴ تقلید کی بابت یہ توجیہ کرتے ہیں : ”اقبال حامل وحی نہ تھے کہ اُنہیں کسی مسئلہ میں غلطی نہ لگتی۔ اُنہوں نے یہ کچھ اپنی فکر کے ابتدائی ایام میں کہا تھا، لیکن جب (بعد میں ) ان کی فکر میں پختگی اور مطالعہ میں مزید وسعت اور گہرائی پیدا ہوئی تو اُنہوں نے خود ہی اس رائے کو بدل دیا۔“[3] یہ توجیہ اگردرست بھی ہو، تب بھی یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ پرویز صاحب نے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی بدلی ہوئی رائے کے مطابق کیا واقعی ترک ِتقلید کا مسلک اپنا لیا تھا؟ جبکہ ہم خود دیکھتے ہیں کہ پرویز اپنے آخری سانس تک مقلد بنے رہے ہیں اور انتہائی جامد قسم کی تقلید پر قائم رہے ہیں ، اندہے کی لاٹھی کے سہارے روشِ تقلید پر گامزن رہے ہیں ۔ زندگی کے کسی مرحلے میں بھی، وہ تقلید کے بندہن سے آزاد نہیں ہوئے۔ یہ الگ بات ہے کہ ُانہوں نے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ، اما م مالک رحمۃ اللہ علیہ یا امام احمد رحمۃ اللہ علیہ بن حنبل کی تقلید کی بجائے ’امام‘ ڈارون، ’امام‘ مارکس، ’امام‘ رینان اور ’امام‘ ان ون وغیرہ کی تقلید کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ نفس تقلید اگر واقعی کوئی معیوب چیز ہے تو خواہ یہ قدیم کی ہو یا جدید کی ہر نوع کی تقلید معیوب ہے لیکن ’مفکر ِقرآن‘