کتاب: محدث شمارہ 308 - صفحہ 108
اس حدیث میں صراحت موجود ہے کہ اولاد میں عطیہ کے اندر برابری کرو۔ اپنا تمام ترکہ انسان کس مرض میں ہبہ کرسکتا ہے ؟ سوال3: لڑکا مشرک، بدعتی اور بدقماش ہے جو اپنے باپ کا نافرمان ہے۔ بیوی بھی لڑکے کے ہم اوصاف ہے، بغرضِ طلاق اس کو بہن کہہ کر الگ بھی کیا ہوا ہے۔ لڑکی کو ترکہ کے حصے سے دو ہزار روپیہ دے دیا ہوا ہے، اب زید کا خیال ہے کہ میرے بعد اگر جائیداد ورثا کو ملی تو وہ حرام راستہ پر جائے گی۔ زید چاہتا ہے کہ اپنی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کسی اسلامی ادارہ کو ہبہ کرجائے، کیا یہ جائز ہے؟ جواب: صورتِ مسؤلہ میں بیوی کی عدت پوری ہوچکی ہے، اس لئے اب وہ بیوی نہیں رہی۔ اب اس کا کوئی حق نہیں اور بیٹا مشرک ہے اور مشرک کافر ہے اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا۔البتہ لڑکی وارث ہوسکتی ہے، اگرچہ اس کودو ہزار روپیہ دے کر الگ کردیا ہے لیکن اس سے اس کی وراثت کا حق منقطع نہیں ہوتا کیونکہ وراثت موت کے وقت ہوتی ہے، اگر موت کے وقت زید کے پاس کچھ مال ہوگا تو لڑکی وارث ہوگی اور اگر موت سے پہلے صحت اور تندرستی میں زید سارا مال کسی ادارہ وغیرہ کو دے دے تو اس صورت میں لڑکی کا کوئی حق نہیں کیونکہ اس کی زید کوشرعاً اجازت ہے، جیسے مشہور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فی سبیل اللہ نصف مال دیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سارا مال دیا۔ رہا بیماری میں دینا تو اس کی دو صورتیں ہیں : ایک یہ کہ بیماری لمبی ہو جس میں موت کا واقع ہونا کم ہوتا ہے، جیسے دمہ، کھانسی، بواسیر وغیرہ جو عمر بھر ساتھ رہتی ہیں اور کچھ علاج معالجہ سے صحت بھی ہوجاتی ہے تو ایسا بیمار تندرست کے حکم میں ہی ہے کیونکہ عموماً تھوڑا بہت انسان بیمار رہتا ہی ہے، جیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس زہر سے فوت ہوئے جو ہجرت کے موقعہ پر غارِ ثور میں کسی شے کے کاٹنے سے جسم میں سرایت کرگیا تھا۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی زہر سے فوت ہوئے جو 7ہجری میں خیبر کے موقع پر یہود نے دعوت کے بہانے سے بکری کے گوشت میں آپ کوکھلا دیا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو کا گوشت جس کو پنجابی میں ’کامی‘ کہتے ہیں ، اس زہر کے اثر سے سیاہ پڑگئی تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیشہ مجھے اس سے دُکھ رہتا ہے اور وفات کے وقت فرمایا کہ اب اس زہر کے اثر سے