کتاب: محدث شمارہ 306 - صفحہ 118
ایک ایسی ضرورت ہے جس کے بغیر چارہ نہیں کیونکہ درحقیقت عورت ہی ایمان و یقین سے لبریز اسلامی زندگی کا محور و مرکز ہے اور اسلامی زندگی ہی وہ چیز ہے جس کو اختیار کرنے سے انسان یہ ثابت کرنے کے قابل ہوتا ہے کہ انسانی برادری کا یہی وہ فرد ہے جس کے وجود سے خاندانوں ، معاشرے اور قوم کے حالات و معاملات درست بنیادوں پراستوار ہوسکتے ہیں ۔ بلاشبہ ایسی مسلمان عورت جس میں یہ دس اوصاف پائے جاتے ہوں جن کا ذکر مذکورہ بالا آیت ِکریمہ میں ہے اور اس طرح پائے جاتے ہوں کہ وہ ان کی حفاظت بھی کرے اور ان پر اعتقاد بھی رکھے، ان پر عمل بھی کرے اور اپنی ذات اور اپنوں پر ان کو منطبق کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں سے برتاؤ کرتے وقت بھی ان کو بروے کار لائے، ایسی مسلمان عورت کا وجود اسلامی معاشرے کی انتہائی ناگزیر ضرورت ہے۔ ایسی ہی عورتوں کے وجود سے اسلامی معاشرہ سلف صالحین کی زندگی اور عہد ِصحابیات کی طرف لوٹ سکتا ہے اور یہی وہ معاشرہ ہوگا جس میں عورتیں اپنے علم و فقہ اور زہد و تقویٰ سے ایسے مردوں کی مضبوط نسل تیار کرسکتی ہیں اور پھر اسے مستحکم بنا سکتی ہیں جن کا اُٹھنا پندرہویں صدی ہجری میں اسلام کو ریاست و قیادت کے منصب پر واپس لانے اور اللہ واسطے کی محبت اور بھائی چارہ کی فضا پیدا کرنے کے لئے مطلوب ہے۔ اسی طرح وہ معاشرہ وجود میں آسکتا ہے جو مردوں کے بازوؤں اور عورتوں کے دلوں پر قائم ہو اور حقیقی معنی میں جدید اسلامی معاشرہ کہلانے کا مستحق ہو، ایک ایسا معاشرہ جو خیر المرسلین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ِخیرالامم کی نشاۃِ ثانیہ کا معاشرہ ہو۔ یہ خالص اسلامی تحریک جو عورت کے ہاتھوں برپا ہو، معاشرے میں از سر نو اسلامی زندگی کی روح دوڑا دے۔ اسی تحریک کے وجود میں آنے سے وہ بہت بڑی خرابی دور ہوگی جس سے آج پورا عالم اسلام گزر رہا ہے کہ وہ ایسی نیک ماؤں کے وجود سے خالی ہے جو اپنی اس ذمہ داری سے باخبر ہوں جو ان پر اللہ تعالیٰ اور نئی نسل کی جانب سے عائد ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یہ بات کہتے ہیں کہ آج مسلمان عورت کو جو کردار ادا کرنا ہے، وہ انتہائی نازک ہے۔ درحقیقت عورت کا اپنے فطری فرائض ادا کرنے کا مشن نہایت اہم اور ضروری ہے۔ اس دور میں مسلمان عورت اس طرح زندہ رہ رہی ہے کہ اس کی زندگی میں سے اسلام کی علامات اور نشانیاں کم ہوچکی ہیں اور یہ عورت ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ از سر نو ان کو خود میں