کتاب: محدث شمارہ 302 - صفحہ 53
دراصل سورۂ فیل کا مرکزی مضمون اور موضوع قریش کو ہیرو بناکر پیش کرنا اور اللہ تعالیٰ کو اُن کا محض معاون و مددگار ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ اس سورہ کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے نوعِ انسانی کے سامنے یہ حقیقت کھول کر بیان کی ہے کہ فی الواقع وہی قادرِ مطلق ہے۔ وہ اپنی قدرت ِکاملہ سے جو چاہے کرسکتا ہے۔ سب کے سامنے اصحاب ِ فیل کا واقعہ ہوا تھا اور یہ صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت ِ قاہرہ تھی جس نے خانہ کعبہ کی حفاظت فرمائی کیونکہ قریش کے لئے بیت اللہ کا دفاع کرنا ممکن نہ تھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک کمزور اور حقیر مخلوق پرندوں کے ذریعے ایک بڑے طاقتور دشمن کونیست و نابود کردیا اور قریش کو بھی ہلاکت و بربادی سے بچا لیا۔ شرک کے پجاری اور اُن کے جھوٹے معبود سب بے بس تھے مگر اس موقع پر صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت ِ کاملہ تھی جس نے اپنے گھر کو اور اہل مکہ کو ایک عظیم خطرے اور آفت سے محفوظ رکھا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ہی قادر ِ مطلق اور معبودِ حقیقی ہے۔ اس کاکوئی شریک نہیں اور بندوں کو صرف اُسی کی عبادت کرنی چاہئے۔