کتاب: محدث شمارہ 302 - صفحہ 51
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ عبدالمطلب اور دوسرے سردارانِ قریش نے خانہ کعبہ کے دروازے پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ وہ اُن کو ابرہہ کے لشکر کے خطرے سے بچائے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور قریش کو اس آفت سے نجات دلائی۔ یا پھر جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرماتے وقت اپنے گھر سے نکل رہے تھے اور اس گھر کامحاصرہ شمشیر بردار جوانوں نے کررکھا تھا تو اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تحفظ کے لئے کون سی عملی کوشش فرمائی تھی جس کے نتیجے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کی آنکھوں میں دھول جھونک کر گھر سے بحفاظت نکل گئے تھے۔ اور یہ تو انفرادی واقعات کی مثالیں تھیں ۔ اجتماعی صورت میں بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت کا قانون صرف وہ نہیں جو غامدی صاحب جیسے لوگوں نے سمجھ رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل مصر سے نکل کر فلسطین جارہے تھے اور ان کے آگے بحیرۂ قلزم کی موجیں اور پیچھے فرعون کی فوجیں تھیں تو اس وقت وہ کون سی عملی جدوجہد تھی جس کے نتیجے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ کے ساتھی سمندر کو بحفاظت پار کرگئے اور فرعون اپنے لشکروں سمیت غرق ہوگیاتھا؟ غامدی صاحب قسم کے لوگ اس واقعے کی جھٹ سے تاویل کردیتے ہیں کہ اُس وقت بحرقلزم کے مدوجزر کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل تو بسلامت پار اُترگئے لیکن اندھے فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر کی اس صورت حال کا علم نہیں ہوسکا اور وہ مدوجزر کی زد میں آکر غرق ہوگئے تھے۔ مگر یہ تاویل قرآن کے صریح الفاظ اور نصوص کے اس قدر خلاف ہے اور عقلی اعتبار سے اتنی بھونڈی ہے کہ اس کی تردید کی ضرورت نہیں ۔ 9. تاریخ و کلام عرب کی شہادت خود تاریخ و کلام عرب کی شہادت بھی سورۂ فیل کی متفقہ اور مجموع علیہ تفسیر کی تائید کرتی ہے کہ پرندوں کی سنگ باری ہی سے ابرہہ کا لشکر تباہ ہوا تھا۔ نفیل بن حبیب، جو کہ قبیلہ خثعم سے تعلق رکھتا تھا اور جس نے ایک موقع پر ابرہہ کے لشکر کی رہنمائی بھی کی تھی، اُس موقع پر کہتا ہے کہ