کتاب: محدث شمارہ 302 - صفحہ 43
1. صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تفسیر سب سے پہلے ہم اس سورہ کی تفسیر میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال کو دیکھتے ہیں : 1. ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں صحیح بخاری کی اس حدیث (( إن ﷲ حبس عن مکۃ الفیل)) کی شرح میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’وأخرج ابن مردویہ بسند حسن عن عکرمۃ عن ابن عباس قال: جاء أصحاب الفیل حتی نزلوا الصفاح وہو بکسر المہملۃ ثم فاء ثم مہملۃ موضع خارج مکۃ من جہۃ طریق الیمن،فأتاہم عبد المطلب فقال: إن ہذا بیت ﷲ لم یسلط علیہ أحدا،قالوا لا نرجع حتی نہدمہ، فکانوا لا یقدمون فیلہم إلا تأخر، فدعا ﷲ الطیر الأبابیل فأعطاہا حجارۃ سوداء فلما حاذتہم رمتہم فما بقي منہم أحد إلا أخذتہ الحکۃ فکان لا یحُکّ أحد منہم جلدہ إلا تساقط لحمہ ‘‘ (ج۱۵/ص ۲۵۵،مطبوعہ بیروت) ’’اور ابن مردویہ نے عکرمہ سے اور اُنہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حسن سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ ہاتھیوں والے آئے اور وہ صِفاح کے مقام پر پہنچ گئے جو مکہ سے باہر (مضافات میں ) یمن کے راستے پر ایک جگہ کا نام ہے۔عبد المطلب ان کے پاس گئے اور ان سے کہا: ’’یہ اللہ کا گھر ہے جس پر وہ کسی اور کو مسلط نہیں ہونے دیتا۔‘‘ وہ بولے :’’ ہم اس کو گرائے بغیر واپس نہ جائیں گے۔‘‘ اُن کے ہاتھی آگے نہیں بڑھ رہے تھے۔ اس وقت اللہ نے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بلا لیے،ان کو سیاہ کنکر دے دیے۔ پھر جب وہ لشکر کے پاس پہنچے تو اُنہوں نے اُن پر کنکر برسائے (جس سے وہ سب مر گئے) اور جو کوئی بچ گیا تو اسے حُکَّہ(جلد کی بیماری) نے آ لیا جس سے اس کے جسم کا گوشت اس سے الگ ہو کر گر جاتا تھا۔‘‘ 2. امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر کبیر میں سورۃ الفیل کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے: ’’ روی عن عکرمۃ عن ابن عباس، قال: لما أرسل ﷲ الحجارۃ علی أصحاب الفیل لم یقع حجر علی أحد منہم إلا نفط جلدہ وثار بہ الجُدري‘‘ (ج ۳۲،ص۱۰۰،مطبوعہ تہران)