کتاب: محدث شمارہ 302 - صفحہ 36
جارہا ہے کہ وہ اس واقعہ کو ثابت کرے، وگرنہ ازخو دلاگو ہونے والی قذف کی سزا بھگتے جس کی سزا ایک اور ترمیم کی رو سے۷ سال قید کی جارہی ہے۔ (روزنامہ ’جنگ‘: ۲۶ جولائی) ایسے واقعات کی رپورٹ پولیس کو کرنا چاہئے، اگر پولیس کو اس سارے عمل سے نکال لیا گیا تو پھر معاشرے میں پھیلی بدکاری کی روک تھام ہی ممکن نہ رہے گی۔ اگر یہ ترمیم کر دی جاتی ہے تو عملاً معاشرے میں قحبہ گری کو فروغ حاصل ہوگا، کیونکہ وہاں ہونیوالے زنا بالرضا کے خلاف خال ہی کوئی شخص سیشن کورٹ میں رپورٹ کرائے گا، اور نہ اسے چار گواہ میسر ہوں گے۔ 4. یہ درست ہے کہ اس کے لئے چار گواہ ضروری ہیں ، لیکن گواہ پورے نہ ہونے پر مبادیاتِ زنا کے جرم کی سزا بھی دی جاسکتی ہے، ایسی صورت میں یہ جرائم بھی قابل دست اندازی نہ رہیں گے۔ اسلام اورحدود قوانین نے اس کا حل قذف کی شکل میں پیش کیا ہے، اگر قذف کی حد عملاً جاری کردی جائے تولوگ خود ہی الزام بازی سے رک سکتے ہیں ۔ 5. مقدمہ کے اندراج کے وقت ہی چار گواہوں کی شہادت عائدکرنے کی وجہ وہیہے جس کا تذکرہ روزنامہ جنگ میں ۱۴/جون کو شائع شدہ مجوزہ ترامیم کے ضمن میں کیا جاچکا ہے: ’’علم اور تجربے سے ثابت ہوچکا ہے کہ زنا کو اس طرح ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ ‘‘ (مسئلہ نمبر۸) 6. حدود آرڈیننس میں اس ترمیم کی اصلاً کوئی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ اس سے قبل ’کریمنل لاء ترمیمی بل ۲۰۰۴ء‘ کی رو سے ۱۵۶ ’بی‘ کے تحت یہ قرار دیا جا چکا ہے کہ ’’زنا کے جرم کی تفتیش سپرنٹنڈنٹ کے عہدے سے کم رتبے کا پولیس آفیسر نہیں کرے گا، نہ ہی ملزمہ عورت کو عدالت کی اجازت کے بغیر گرفتار کیا جاسکے گا۔‘‘ دو سال قبل اس بل کی منظوری کے بعد عملاً مزید ترمیم کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ ٭ حدود آرڈیننس میں مزیدبھی کئی ترامیم تجویز کی گئی ہیں جن میں ایک مالی معاملات میں مرد عورت کی برابر گواہی کے حوالے سے ترمیم ہے۔ یہ ترمیم بھی قرآنِ کریم کی واضح آیت ِمداینہ (البقرۃ:۲۸۲)اور صریح احادیث کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ایسے ہی لِعان کے شرعی طریقہ میں تبدیلی، مسلم فریقین کے لئے غیر مسلم جج حضرات کی اجازت، زنا اور قذف کے علاوہ کوڑوں کی تمام سزاؤں کا خاتمہ (جن میں شراب کی سزا بھی شامل ہے، کیونکہ وہ بھی